یزید کی جبری بیعت کی ایک مثال صحیح بخاری سے

یزید کی جبری بیعت کی ایک مثال صحیح بخاری سے
محی الدین غازی
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے حضرت حسین کے مشن کی تائید میں ایک مضمون "حسین، مجاہد خلافت، شہید خلافت" لکھنے کا موقع دیا، جسے غیر معمولی نشر واشاعت حاصل ہوئی، حضرت حسین کا مشن اتنا عظیم اور مبارک ہے کہ اس سے ذرا بھی نسبت ہوجائے تو اسے خوش نصیبی سمجھنا چاہئے۔ بہت سے قارئین نے اس کوشش کو سراہا، تاہم کچھ لوگوں نے میری تحریر اور اپروچ سے اختلاف بھی کیا، اور انہیں بجا طور پر اس کا حق حاصل ہے، کچھ نے میرے سلسلے میں سب وشتم کا لہجہ اختیار کیا، اس پر مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے، بلکہ وہ گالیاں چونکہ حضرت حسین کے مشن کے حوالے سے میرے حصے میں آٗئیں اس لئے اس میں بھی یک گونہ لذت محسوس ہوئی۔
جن لوگوں نے اس مضمون کو پڑھ کر مجھ پر رافضیت اور شیعیت کا الزام لگایا، ان سے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے میں شیعیت کے غلط نظریات کے خلاف ایک مضمون شائع کرچکا ہوں، اس کے بعد یہ الزام لگانا مضحکہ خیز ہے۔ اور جب امام شافعی جیسا اہل سنت کا عظیم امام رافضیت کے الزام سے نہیں بچ سکا تو میں اس الزام کی پرواہ کیوں کروں۔
بعض قارئین نے کہا کہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ حسین کا قتل یزید کے حکم سے ہوا تھا، اس پر عرض ہے کہ اتنی بڑی سرکاری کارروائی کے لئے جس میں سرکاری فوج کا استعمال ہوا ہو، اور وقت کے سب سے بڑے اپوزیشن لیڈر کا قتل ہوا ہو، پھر ان قاتلوں کے خلاف ذرا بھی ایکشن نہیں لیا گیا ہو، بلکہ قاتل گورنر کو اس کے منصب پر بحال رکھا گیا ہو، تو یہی مانا جاتا ہے کہ قتل سربراہ کے حکم سے ہوا ہے۔ ایسے قتل میں ضروری نہیں ہوتا ہے کہ ریکارڈ میں کوئی حکم پایا ہی جائے۔ کیا خاندان رسول کے پندرہ افراد کا ایک ساتھ قتل کسی بڑے ایکشن کا تقاضا نہیں کرتا تھا۔
بعض قارئین کا یہ موقف سامنے آیا کہ یزید کی بیعت بہت نارمل حالات میں صحابہ سے آزادانہ مشاورت کے بعد پوری رضا ورغبت کے ساتھ لی گئی تھی، اور کسی قسم کے جبر کا استعمال نہیں کیا گیا تھا، اور اس سلسلے میں جو بھی تاریخی روایات ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ میں نے بغیر کسی دلیل کے یزید کی بیعت کو جبری بیعت قرار دیا۔
یزید کی بیعت جبری بیعت تھی، اس سلسلے میں تاریخ کی کتابوں میں تو بہت سی باتیں ملتی ہیں، تاہم میں ایک روایت صحیح بخاری کی ذکر کروں گا، جس سے حقیقی صورت حال کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس روایت کے مطابق امیر معاویہ کے زمانے میں جب حجاز کے گورنر مروان بن الحکم نے مدینہ میں لوگوں کو جمع کر کے یزید کے حق میں تقریر کی اور لوگوں کو یزید کی بیعت کے لئے آمادہ کرنا چاہا، تو حاضرین میں سیدنا ابوبکر صدیق کے بیٹے عبدالرحمان بھی تھے، جو ایک جلیل القدر صحابی تھے، انہوں نے اٹھ کر اختلاف کیا (ایک روایت کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول کی سنت نہیں روم کے قیصر کا طریقہ ہے)، عبدالرحمان کا یہ کہنا ہی تھا کہ مروان نے حکم دیا کہ پکڑو انہیں، عبدالرحمان جان بچانے کے لئے بھاگ کر اپنی بہن سیدہ عائشہ کے گھر میں گھس گئے، اور وہ لوگ انہیں نہیں پکڑ سکے۔ اس پر مروان نے ان پر الزام لگایا کہ اللہ تعالی نے قرآن کی آیت (جو نہایت سخت کافر اولاد کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی) عبدالرحمان کے سلسلے میں نازل کی ہے، اس پر سیدہ عائشہ نے سختی سے تردید کی اور کہا ایسا نہیں ہے۔ یہ روایت صحیح بخاری میں ہے اور اس کے الفاظ درج زیل ہیں:
قال: كان مروان على الحجاز استعمله معاوية فخطب، فجعل يذكر يزيد بن معاوية لكي يبايع له بعد أبيه، فقال له عبد الرحمن بن أبي بكر شيئا، فقال: خذوه، فدخل بيت عائشة فلم يقدروا، فقال مروان: إن هذا الذي أنزل الله فيه، {والذي قال لوالديه أف لكما أتعدانني} [الأحقاف: 17]، فقالت عائشة من وراء الحجاب: «ما أنزل الله فينا شيئا من القرآن إلا أن الله أنزل عذري»
ایسی اور بھی صحیح روایات ہیں جو یزید کی بیعت میں استعمال کئے گئے غیر اخلاقی طریقوں کو اچھی طرح بے نقاب کرتی ہیں۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق کے بیٹے کے زبانی اختلاف کرنے پر انہیں دوڑا لیا گیا اور انہیں اپنی جان بچانے کے لئے سیدہ عائشہ کے گھر میں پناہ لینی پڑی، اور اس کے بعد ان کو بے عزت کرنے کے لئے جھوٹا الزام لگایا گیا تو اس سے اس وقت کے عمومی ماحول کا بہت اچھی طرح اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اس واقعہ سے اس غلط خیال کی بھی نفی ہوتی ہے کہ حضرت حسین کا سخت موقف دو خاندانوں کی اقتدار کی خاطر کشمکش کا حصہ تھا، کیوں کہ سیدنا ابوبکر کے بیٹے کا دونوں خاندانوں سے تعلق نہیں تھا، اور وہ غیر جانب دارانہ موقف میں یزید کی بیعت کو غلط سمجھتے تھے۔
امید ہے یہ وضاحتیں بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اہل سنت کے عظیم محقق امام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے، نوفل بن ابی فرات کہتے ہیں: میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھا، ایک آدمی نے کہا: "امیر المومنین یزید نے کہا" یزید کو امیرالمومنین کہنے پر عمر بن عبدالعزیز نے اس آدمی کو بیس کوڑے لگانے کی سزا دی۔
مت بھولیں کہ عمر بن عبدالعزیز اموی خلیفہ تھے...

ایک کھلا تجویز نامہ مرکز جماعت اسلامی ہند کی خدمت میں

ایک کھلا تجویز نامہ
مرکز جماعت اسلامی ہند کی خدمت میں
محی الدین غازی
یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ایک رکن جماعت کی یہ تحریر کسی بھی طرح کی تنقیدی تحریر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اچھی تعمیر کو اور زیادہ بہتر تعمیر بنانے کے لئے محض ایک تجویز ہے، جسے اسی صورت میں قبول کرنا چاہئے جب کہ اس کے درست ہونے پر پورا اطمینان ہوجائے۔ اطمینان نہ ہونے کی صورت میں اس تجویز کے ساتھ سب سے اچھا سلوک یہ ہوگا کہ اسے رد کردیا جائے۔
جماعت اسلامی ہند کے میقاتی انتخابات قریب ہیں، اور ان کے لئے فہرست ارکان کی تیاری کا کام شروع ہوچکا ہے، یہ تجاویز اسی فہرست ارکان سے متعلق ہیں اور مناسب ترین وقت پر پیش کی جارہی ہیں۔
مجھے اپنے مشاہدے کی حد تک اس پر پورا اطمینان ہے کہ جماعت اسلامی ہند کا طریقہ انتخاب ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے ملکوں کی تنظیموں سے زیادہ منظم، زیادہ شفاف، اور زیادہ مبنی بر انصاف ہے۔ جماعت میں رائج انتخابات کا طریقہ واقعی بہترین طریقوں میں ایک ہے، اور جماعت میں موجود انتخابات کا ماحول بھی بہت صاف ستھرا اور اعلی اخلاقی قدروں سے مزین ہوتا ہے۔ اور عام طور سے انتخابات کے حوالے سے کسی طرح کی غیر اخلاقی حرکتوں کی خبر نہیں ملتی ہے۔ خدا کرے یہ امتیاز ہمیشہ باقی رہے۔
جماعت کی اس امتیازی پہچان کا اعتراف کرتے ہوئے، اور اسی امتیاز کو مزید ترقی دینے کے لئے فہرست ارکان سے متعلق چار تجاویز پیش خدمت ہیں، ان تجاویز میں قدر مشترک یہ ہے کہ فہرست ارکان میں ملک کے تمام ارکان کو مساوی حیثیت حاصل رہے، اس مساویانہ حیثیت کا مطالبہ کرنے کا حق ہر رکن شرعی اور اخلاقی اعتبار سے حاصل ہے۔
پہلی تجویز: فہرست ارکان کو مکمل طور سے حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق ہونا چاہئے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر مقام کی لسٹ میں سر فہرست مقامی ذمہ دار کا نام ہوتا ہے اور اس کے بعد باقی لوگوں کا نام ہوتا ہے، اس کے بجائے ہر علاقے یا ضلع یا مقامی جماعت کی فہرست مکمل طور پر حروف تہجی کے مطابق ہو۔ اس طرح سے کسی بھی نام کو فہرست میں امتیازی حیثیت حاصل نہیں رہے گی۔
دوسری تجویز: حلقوں کی فہرست سے علاقہ حلقہ فہرست ارکان سے یکسر ختم کردیا جائے (علاقہ حلقہ میں حلقہ کے ذمہ داروں کے نام ہوتے ہیں) علاقہ حلقہ میں موجود ناموں کو حلقے کی سطح پر یک گونہ امتیازی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، اس طرح کی ممتاز حیثیت کا فہرست ارکان میں نظر آتا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔
تیسری تجویز: علاقہ مرکز یا حلقہ مرکز کو فہرست ارکان سے یکسر ختم کردیا جائے، (علاقہ مرکز میں مرکزی ذمہ داروں کے نام ہوتے ہیں) اس میں موجود ناموں کو عام ارکان کے مقابلے میں غیر معمولی امتیازی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ خاص طور سے غیر علاقائی نمائندگان اور مرکزی شوری کے ارکان کے انتخاب کے وقت علاقہ مرکز کی اس امتیازی حیثیت کا اثر انداز ہوجانا عین قرین قیاس ہوتا ہے۔
چوتھی تجویز: جو ارکان ملک سے باہر مقیم ہوتے ہیں ان کے نام کے آگے ایک علامت ہوتی ہے، یہ علامت ان ارکان کی حق تلفی کا سبب بنتی ہے۔ ایسی علامت کو بھی ہٹادینا چاہئے۔
ان تجاویز کی اخلاقی بنیاد یعنی ہر رکن کا حق مساوات تو بالکل واضح ہے، مزید ان کی شرعی بنیاد وہ احادیث ہیں جن میں شبہ پیدا کرنے والے اور تہمت کو جنم دینے والے اسباب سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
اس سے انکار نہیں ہے کہ فہرست ارکان کا موجودہ خاکہ جماعت کے مصالح کے حصول کے لئے ہی بنایا گیا ہے، لیکن انتخابات کے حوالے سے فہرست ارکان کی سب سے بڑی مصلحت یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں تمام ارکان کی حیثیت بالکل یکساں رہے۔ اور کہیں کسی طرح کا امتیاز نظر نہ آئے، چاہے اس امتیاز کی پشت پر کیسی ہی اعلی مصلحت اور کتنی ہی اچھی نیت کارفرما کیوں نہ ہو۔
اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ عام ارکان جماعت سمجھ داراور بالغ النظر ہوتے ہیں، اور یہ ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ فہرست ارکان میں کسی طرح کی امتیازی حیثیت یا علامت ان کی قدرت انتخاب پر اثر انداز نہیں ہوتی ہے، لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ ان کی بالغ نظری پر ہی اعتماد کرتے ہوئے، ہر طرح کی امتیازی علامت وحیثیت کو ہٹادینا فہرست ارکان اور جماعت اسلامی کے طریقہ انتخاب کو ساری دنیا کے لئے مثالی بنادے گا۔ اور کسی کو کسی طرح کے اعتراض کا موقع نہیں رہے گا۔
اس تجویز کو پبلک فورم پر لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جماعت کے تمام ارکان تک اس تجویز کی خبر پہونچ جائے، اور نہ صرف وہ بلکہ آئندہ منتخب ہونے والی مجلس نمائندگان کے ارکان بھی اس سے متعلق اپنی آزادانہ رائے قائم کرسکیں۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد کو معلوم ہو کہ جماعت اسلامی میں تجویز دینے کا ماحول نہایت حوصلہ افزا اور صحت بخش ہے۔ تیسرا مقصد یہ ہے کہ امت کے دوسرے ادارے اور جماعتیں بھی اپنے اپنے انتخابی طریقے اور انتخابی ماحول کو بہتر بنانے کی طرف متوجہ ہوں۔
آخری بات یہ ہے کہ حق معلومات کے اس زمانے میں اگر کسی طریقے اور اس سے متعلق کسی تجویز کا علم عام لوگوں کو ہوجائے تو اس پر ذرا بھی کھٹک یا خلش کسی کے دل میں نہیں ہونی چاہئے، بلکہ اسلامی تحریکات کے اندر باہر کی دنیا سے بھی زیادہ حق معلومات کے میسر رہنے کا رجحان بننا چاہئے۔

جو غلط ہے چھوڑ دو، جو صحیح ہے لے لو

جو غلط ہے چھوڑ دو، جو صحیح ہے لے لو
(اترک ما أخطأ، وخذ ما أصاب)
محی الدین غازی
ایک سبق آموز واقعہ مطالعہ سے گزرا، حمیدی ایک بڑے محدث گزرے ہیں، وہ کہتے ہیں: احمد بن حنبل مکہ آئے اور ہمارے یہاں قیام کیا، ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا: یہاں قریش خاندان کا ایک شخص درس دیتا ہے، اور وہ بیان ومعرفت میں امتیازی شان رکھتا ہے، میں نے پوچھا کون ہے وہ؟ کہا: محمد بن ادریس شافعی۔ (عراق میں ان دونوں کی ملاقات رہی تھی)۔ وہ مجھے اکساتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس کھینچ لے گئے۔ شافعی کی مجلس میزاب کے سامنے ہوا کرتی تھی، ہم ان کے حلقے میں بیٹھ گئے، وہاں بہت سے مسائل زیر بحث آئے۔ جب ہم اٹھے تو احمد بن حنبل نے پوچھا، کہو کیسا پایا، میں چن چن کر ان کی غلطیاں بتانے لگا، احمد بن حنبل نے کہا: سوچو سو مسائل پر انہوں نے گفتگو کی اور غلطی محض پانچ یا دس میں ہوئی۔ تو تم ایسا کرو جو باتیں غلط کہی ہیں وہ چھوڑ دو ، اور جو باتیں صحیح کہی ہیں وہ لے لو۔ (اترک ما أخطأ، وخذ ما أصاب) حمیدی کہتے ہیں ان کی یہ بات میرے دل میں اتر گئی۔ میں شافعی کے حلقے میں بیٹھنے لگا یہاں تک کہ تمام اہل مجلس سے زیادہ ان کے قریب ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ امام احمد نے اس واقعہ میں علم ومعرفت کا شوق رکھنے والوں کو بہت زبردست اصول دیا ہے۔ ہر شخصیت جو پرانی باتیں دوہرانے اور متن پر حاشیے چڑھانے کے بجائے علمی فتوحات کا راستہ اختیار کرتی ہے، اور علم کے میدان میں تجدید واجتہاد کے کچھ کارنامے انجام دینے کا حوصلہ رکھتی ہے، اس سے لغزشیں ضرور ہوسکتی ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی غلطیوں کی فہرست تیار کرکے سوشل میڈیا پر گھمادی جائے، اور عام منادی کرادی جائے کہ فلاں نے چالیس غلط باتیں لکھی ہیں، اس لئے اس کی تمام کتابوں سے شدید پرہیز کیا جائے۔ ہزاروں صحیح اور قیمتی باتیں لکھنے والے سے اگر آپ کو سو باتوں میں اختلاف ہے تو وہ اختلاف سے کہیں زیادہ اتفاق ہے، لیکن آپ اسے محسوس نہیں کررہے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ کچھ غلطیوں کی وجہ سے پوری شخصیت کو رد کردینے کے رویے نے امت کو شدید علمی نقصان پہونچایا ہے۔ راقم نے علم حاصل کرنے والے بہت سے نوجوانوں کی جیب کو ٹٹولا تو ان کے پاس ایسے اہل علم کی طویل فہرست ملی، جنہیں وہ استفادے کا اہل نہیں سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے بارے یہ سن رکھا ہے کہ کچھ مسائل میں وہ غلط رائے رکھتے ہیں۔
مطالعہ کا شوق رکھنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ پہلے مستند اور معتبر علماء کی کتابیں پڑھ لو، اس کے بعد جب ذہن پختہ ہوجائے تو دوسروں کی کتابیں پڑھنا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مستند اور معتبر علماء کی رہنمائی میں کتابوں کا مطالعہ ہونا چاہئے۔ میرا جائزہ ہے کہ یہ بات کہنے والے دراصل معتبر ومستند سے مراد صرف اپنے حلقے اور اپنے مسلک ومشرب کے علماء مراد لیتے ہیں۔ شوق مطالعہ کو اس قید وبند میں گرفتار کردینے کے بعد پھر نہ صرف یہ کہ مطالعہ محدود رہ جاتا ہے، بلکہ قلب ونظر بھی تنگی سے باہر نہیں نکل پاتے ہیں۔
اہل علم کی کتابیں پڑھ کر بہک جانے کا ڈراوا بہت زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے، اس سے طالب علم کے اندر ایک جھجھک پیدا ہوجاتی ہے، پھر وہ زندگی بھر ڈرتے ڈرتے اور دھیرے دھیرے چلتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آزاد اور بے خوف ہو کر بلا تفریق تمام اہل علم کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، بلاشبہ ان کا گزر مختلف اونچے نیچے راستوں اور بل کھاتی پگڈنڈیوں سے ہوتا ہے، ان کی زندگی میں حیرت واضطراب کے بہت سے مرحلے آتے ہیں، مگر وہ شخصیت کی تعمیر وارتقا کے صحیح راستہ پر مناسب رفتار سے چلتے ہیں۔ وہ کھوتے کم ہیں اور پاتے زیادہ ہیں۔
حق کی اپنی روشنی ہوتی ہے، اور وہ جہاں بھی ہوتی ہے دل کو موہ لیتی ہے، اس روشنی پر اعتماد کرنے سے حقیقی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اندیشے دور ہوجاتے ہیں، اور علم کے چاہنے والے اطمینان اور بے خوفی کے ساتھ امت کے تمام اہل علم ودانش سے فائدہ اٹھالیتے ہیں۔
حق بات کی قوت کا بہت زبردست اعتراف امام شافعی کے یہاں ملتا ہے، وہ اپنے شاگردوں سے کہتے تھے: "ہر وہ بات جو میں تم سے کہوں اور تمہاری عقل اس کی تائید نہیں کرے، اسے قبول نہیں کرے اور اسے درست نہیں سمجھے، تو اسے تم قبول مت کرنا، کیوں کہ عقل تو صحیح بات قبول کرنے پر مجبور ہوتی ہے"۔ «كُلُّ مَا قُلْتُ لَكُمْ، فَلَمْ تَشْهَدْ عَلَيْهِ عُقُولُكُمْ وَتَقْبَلْهُ، وَتَرَهُ حَقًّا فَلا تَقْبَلُوهُ، فَإِنَّ الْعَقْلَ مُضْطَرُّ إِلَى قَبُولِ الْحَقِّ» جب استاذ طلبہ کے اندر ایسی خود اعتمادی پیدا کردے، تو پھر دل ودماغ پر کسی نگراں یا سرپرست کو بٹھانے کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔

کشادہ ظرفی کی سب سے اعلی تعلیم

کشادہ ظرفی کی سب سے اعلی تعلیم
محی الدین غازی
قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ یہاں دیر تک رکنا چاہئے، قرآن مجید حسین وجمیل بلندیوں کی کتاب ہے، اور ہر بلندی دل کو بہت دیر تک اس طرح تھامے رکھتی ہے، کہ دیکھنے والا ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہ جائے۔ ایسی ہی ایک حسین وجمیل بلندی کا تذکرہ کرنا یہاں مقصود ہے۔
اللہ کے ساتھ شرک کرنا آخری درجے کی بد اخلاقی کی بات ہے۔ اللہ کی شان میں سب سے بڑی گستاخی یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مان لیا جائے۔ شرک کو اللہ ظلم عظیم قرار دیتا ہے، اور اس جسارت پر پوری کائنات غصے سے پھٹی پڑتی ہے۔ ایک تو شرک نہایت سنگین گناہ اور اس پر اگر کوئی شرک بھی کرے اور اللہ کے مسلم اور مومن بندوں پر شرک کرنے کے لئے دباؤ بھی ڈالے، تو جرم اور گستاخی کی نوعیت بہت ہی زیادہ سنگین ہوجاتی ہے۔ یہ حقیقت سامنے رکھیں اور پھر اس آیت پر غور کریں:
"اور اگر وہ تم پر دباؤ ڈالیں کہ تم کسی کو میرا شریک ٹھیرالو، جس کے باب میں تمہارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے، تو ان کی بات نہ مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک رکھو" (سورت لقمان 15)
یہاں اللہ ایسے والدین کا ذکر کرتا ہے جو شرک بھی کرتے ہیں اور شرک کرنے کے لئے اپنی اولاد پر شدید دباؤ بھی ڈالتے ہیں، ایسی صورت حال کے بارے میں اللہ اولاد کو حکم دیتا ہے کہ ماں باپ کے اس دباؤ کو قبول نہ کریں، لیکن اس کے ساتھ ہی اولاد کو یہ حکم بھی دیتا ہے کہ وہ دنیا میں ایسے ماں باپ کے ساتھ رہیں اور اچھے سلوک کے ساتھ رہیں، زندگی بھر ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے رہیں۔
اس آیت میں کشادہ ظرفی کی اتنی اونچی تعلیم تک پہونچادیا جاتا ہے کہ انسان کا خیال بھی وہاں تک نہیں پہونچ سکتا ہے۔ ایک طرف ماں باپ ہیں کہ اللہ کی شان میں سنگین ترین گستاخی کررہے ہیں، اور دوسری طرف اللہ انہی ماں باپ کے ساتھ ان کی اولاد کو حسن سلوک کی تاکید کررہا ہے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ جس سے ہمیں ناراضگی ہو، اس کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہئے، ہم کسی سے کتنا ہی ناراض ہوں، ہمارے ظرف کی کشادگی برقرار رہنی چاہئے۔ ناراضگی آپ کے ہاتھوں سے آپ کی نہایت قیمتی چیزیں برباد کروادیتی ہے، اگر آپ کے اندر ذرا بھی سمجھ داری ہے تو انتہائی غصے میں بھی ہرگز نہ بھولیں کہ اخلاق کی بلندی آپ کی بہت قیمتی دولت ہے، اسی سے آپ کی شخصیت کا حسن ہے، اپنی اس دولت کی حفاظت آپ کو اور صرف آپ کو کرنی ہے، اگر کوئی آپ کے ساتھ زیادتی یا کوتاہی کرتا ہے، یا آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے خواہ وہ کیسی ہی شدید گستاخی ہو، تو بھی طیش میں آکر آپ کو اپنی یہ قیمتی دولت ضائع نہیں کرنی ہے۔ کیونکہ غصہ تو چڑھتا ہے اور پھر اتر بھی جاتا ہے، لیکن اخلاق کی بلندی اور ظرف کی کشادگی سے ہاتھ دھوبیٹھنا انسان کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے جس کی تلافی آسان نہیں ہوتی ہے۔
یہ آیت بیٹوں اور بیٹیوں کو والدین کے سلسلے میں ایک زبردست اصول دیتی ہے، وہ یہ کہ والدین ان کے ساتھ کیسا ہی سلوک کرتے ہوں، انہیں والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کے ساتھ رہنا ہے۔ مشرک والدین اللہ کی شان میں کتنی سخت گستاخی کرتے ہیں، پھر بھی اللہ ان کی مومن اولاد کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ زندگی بھر اپنے ایسے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں۔ الہی تعلیم کی یہ بلندی نگاہوں کے سامنے رکھیں اور سوچیں اگر والدین سے اولاد کو تکلیف پہونچ جاتی ہے، والدین ان کے جذبات کو ٹھیس پہونچادیتے ہیں، جانے یا انجانے میں ان کے ساتھ زیادتی کرجاتے ہیں، انہیں ناحق ڈانٹ دیتے ہیں، یا ان کی کسی جائز مانگ کو ٹھکرایتے ہیں، ایسی کسی بھی حالت میں اولاد کے لئے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ اختیار کریں، اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کریں، محض اس وجہ سے کہ ماں باپ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔
جب اللہ اپنے ساتھ شرک کرنے والے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر شرک پر زور زبردستی کرنے والوں کے سلسلے میں حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے، تو پھر ہمیں کیا حق پہونچتا ہے کہ اپنے سلسلے میں کسی بھی طرح کی شکایت پیدا ہوجانے کی بنا پر کسی انسان کے ساتھ حسن سلوک نہ کریں، اور اس کے ساتھ بداخلاقی کو اپنے لئے جائز ٹھیرالیں۔
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی برائی ایسی نہیں ہے جو حسن اخلاق سے عاری ہوجانے کے لئے وجہ جواز بن سکتی ہو۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں کشادہ ظرفی کی بہت اعلی تعلیمات موجود ہیں۔ ان تعلیمات سے سے آراستہ ہونے والا شخص خراب سے خراب انسان کے لئے بھی اپنے ظرف کو کشادہ رکھتا ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں بڑی قیمتی نصیحت فرمائی: "جو تم سے رشتہ توڑے تم اس سے بھی رشتہ جوڑو، جو تمہیں محروم رکھے تم اسے بھی عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے تم اس سے بھی درگزر کرو"
دنیا کے بہت سے حسن کی حفاظت کشادہ ظرفی سے ہوتی ہے۔ انسانوں کے بہت سے داغ دھبے اس حسین سنگھار میں چھپ جاتے ہیں۔ کشادہ ظرفی کے لئے محبت کا ہونا ضروری نہیں ہے، ہوسکتا ہے کسی شخص کو اس کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے آپ محبت کرنے کے قابل نہیں سمجھتے ہوں، لیکن پھر بھی کشادہ ظرفی سے کام لیتے ہوئے وقت آنے پر اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ کشادہ ظرفی کہتے ہی ہیں اس اچھے اخلاق کو جس میں وہ لوگ بھی سما جائیں جن سے آپ کسی بھی وجہ سے نفرت کرتے ہیں۔ کشادہ ظرفی آپ کی اپنی ضرورت ہے، یہ آپ کا وہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہے جسے آپ ہمیشہ زیب تن رکھنا چاہیں گے، چاہے آپ کے سامنے سے کوئی کتنے ہی گندے لباس میں گزر جائے۔
قرآن مجید میں کشادہ ظرفی کی بہت اونچی منزل دکھائی گئی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی اونچے مقام پر فائز تھے، اس منزل تک پہونچنے کی کوشش کرنا ہر مومن بندے کا ہدف ہونا چاہئے۔

انصاف اور آزادی کے بدلے امن اور سلامتی

انصاف اور آزادی کے بدلے امن اور سلامتی
(کیا امن پسندی دوسروں کی پسند، مگر امت کی کمزوری بن گئی ہے؟)
محی الدین غازی
سیدنا حسن نے امت کو خون خرابے سے بچانے کے لئے اقتدار سے علیحدہ ہوجانے کو ترجیح دی، اور اس طرح امت ایک بڑی خوں ریزی سے بچ گئی جس کا ہونا یقینی تھا، کیونکہ فریق مقابل کو اقتدار کی خاطر خوں ریزی سے ذرا بھی تردد نہیں تھا، اور یہ ممکن ہی نہیں رہ گیا تھا کہ دونوں فریق مل کر کسی تیسرے متبادل پر گفتگو کرسکیں۔ اس وقت جب کہ ایک فریق ڈنکے کی چوٹ پر "فلیطلع لنا قرنہ" (کون ہے ہم سے زیادہ حق دار نکال کر دکھائے اپنا سینگ) بول رہا تھا، تو دوسرا فریق امن کی خاطر آخری حد تک پیچھے ہٹ جانے کے لئے آمادہ اور تیار ہوگیا تھا۔
امن کی خاطر اقتدار سے دست بردار ہونے کا یہ اقدام سیدنا حسن کا اجتہاد تھا، سیدنا حسین کو اس اجتہاد سے اتفاق نہیں تھا، اور یہ اتفاق نہ کرنا سیدنا حسین کا اجتہاد تھا۔ دونوں میں سے کس کا اجتہاد درست تھا اس کا علم اللہ کو ہے، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ دونوں کے پیش نظر امت کا مفاد تھا، ان دونوں میں سے کسی کے سامنے ذاتی یا خاندانی مفاد نہیں تھا۔
خاص بات یہ ہے کہ اسی طرح کے ایک نازک موقع پر سیدنا ابن عمر نے بھی ان لوگوں کی طرف سے متوقع خون خرابے سے بچنے کے لئے دل کی بات دل ہی میں رہنے دی اور زبان پر نہیں آنے دی، فخشيت أن أقول كلمة تفرق بين الجمع، وتسفك الدم (صحیح بخاری)
تاہم بعد کے ادوار میں سیدنا حسن اور سیدنا ابن عمر کے اس اقدام کو اقتدار کے غرور اور نشے میں مست رہنے والوں نے امت کے صالحین کی کمزوری سمجھ لیا، اور یہ بھانپ لیا کہ یہ پاکیزہ نفس لوگ امت کو خون خرابے سے بچانے کے لئے اہل اقتدار کی ہر حرکت کو انگیز کرتے رہیں گے۔ امت کو خون خرابے سے بچانے کی مصلحت کا اتنا شور ہوا کہ پھر وہ مصلحت واقعی صالحین کی کمزوری بن گئی، وقت کے گزرتے کسی طرح اس مصلحت کے حق میں فقہی اور کلامی لٹریچر بھی وجود میں آگیا، اور اس طرح اہل اقتدار کو دین دار طبقے کی جانب سے غیر معمولی قسم کا تحفظ حاصل ہوگیا۔
فقہی اور کلامی لٹریچر میں طرفہ تماشا یہ بھی رہا کہ خون خرابے کی فکر رکھنے والوں کے نزدیک اہل اقتدار کے اوپر خون خرابے کو روکنے کی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی ہے، اہل اقتدار کو کوئی شخص شریعت اور انسانیت کا یہ فیصلہ نہیں سناتا ہے کہ تمہارے ظلم وناانصافی کے نتیجے میں عوام نے بغاوت کی تو ساری خوں ریزی کا خمیازہ تمہارے سر ہوگا، اس کے برعکس عوام سے کہا جاتا ہے کہ حاکم لاکھ ظلم کے پہاڑ توڑے، اگر تم نے سر اٹھایا تو جو بھی بد امنی پھیلے گی اس کی ذمہ داری صرف اور صرف تمہارے سر ہوگی۔
بلاشبہ امن بہت بڑی نعمت ہے، اور امن پسندی بہت اچھا اور سب کے نزدیک نہایت پسندیدہ رجحان ہے، اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا ہے، لیکن اگر امن پسندی ایک کمزوری بن جائے جس کا فائدہ صرف شرپسند اٹھائیں، تو ایسی امن پسندی کے جواز پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
امن پسندی کا صحیح محل یہ ہے کہ سب لوگ مل کر ایسے سماج اور ایسی ریاست کو تشکیل دیں، جس میں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے، اور کوئی کسی کی حق تلفی نہیں کرے۔ ایسے پرامن اور انصاف سے آراستہ سماج اور ریاست میں اگر کوئی بدامنی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کا ہاتھ پکڑنا سب کی ذمہ داری ہے۔
لیکن ایسا سماج اور ایسی ریاست جس میں ناانصافی اور ظلم کو قبول کرلینے کی بھاری قیمت ادا کرکے ہی امن ملتا ہو، اور وہاں پر جو ظلم وناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے اس کو امن سے محروم کردیا جائے، اور اگر سماج وریاست کے سب لوگ عدل وانصاف کی خاطر اٹھیں تو ان سب کے خون کی ندیاں بہادی جائیں، اور پھر انہیں کو اس کا ذمہ دار بھی قرار دیا جائے، ایسا امن حاصل کرنا نفع کا سودا ہے یا خسارے کا سودا ہے اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ دور حاضر کا مشاہدہ تو یہی بتاتا ہے کہ امن پسندی کے نام پر عافیت کی راہ اختیار کرنے والوں کو امن تو مل جاتا ہے، لیکن انہیں ظلم سے نجات نہیں ملتی ہے۔ ان کی حیثیت امن کی دولت سے مالا مال غلاموں کی ہوتی ہے۔
نہایت افسوس اور شرم کی بات ہے کہ اس وقت عالم اسلام کے بیشتر ملکوں میں امن پسندوں کو امن پسندی کی اور انصاف پسندوں کو انصاف پسندی کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ باقی دنیا میں انصاف اور آزادی کے عوض امن نہیں ملتا ہے، بلکہ انصاف اور آزادی کے ساتھ امن بھی ملتا ہے۔ صرف مسلم دنیا میں یہ اصول رائج ہے کہ انصاف اور آزادی مانگو گے تو امن سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔
شام میں بہتے ہوئے خون کے دریا، مصر میں بھرے ہوئے قید خانے، یمن میں اجڑے ہوئے خاندان اور لیبیا میں بکھرے ہوئے کھنڈرات اب دوسرے مسلم ملکوں کے سرکاری بیانوں اور دینی خطبوں میں بطور عبرت اور ازراہ حجت ذکر کئے جاتے ہیں، کہ انصاف اور آزادی کے خواب دیکھنے کا انجام دیکھو اور سخت عبرت پکڑو۔
کیا امن پسندی کا مطلب ہمیشہ ہمیش کی غلامی قبول کرلینا ہے؟ یہ وہ شدید قسم کی پیچیدگی ہے جس میں پوری مسلم امت گرفتار ہے، سیاسی اور سماجی اصلاح کا ایسا راستہ کیسے نکلے جو تشدد اور خوں ریزی سے پاک ہو؟، کس طرح امن پسندی امت کی کمزوری نہ بن کر امت کی آزاد پسند بن جائے، کہ کوئی اس کی آڑ میں امت کا استحصال نہیں کرسکے؟، اس پر بہت زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ امت میں بے چینی کی ہر کروٹ پر خون کے فوارے ابلتے رہیں گے، جس پر ظلم کے پرستار خونی رقص کرتے رہیں گے، اور امن کے پاسبان امن کے نغمے گاتے رہیں گے۔

قوموں کی طاقت، قائد کا یقین وبصیرت

قوموں کی طاقت، قائد کا یقین وبصیرت
محی الدین غازی
ساتویں صدی ہجری اختتام پر تھی، اور تاتاریوں کی فوجیں شام اور مصر کی طرف بڑھ رہی تھیں، ان کی تباہ کاریوں سے پورا عالم اسلام لرز اٹھا تھا، بے شمار آبادیاں قبرستانوں میں تبدیل ہوچکی تھیں، تاتاری فوجوں کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ بڑی بڑی فوجیں ان کی آمد کی خبر سن کر ہی اپنے اوسان کھودیتی تھیں، بغداد بری طرح تباہ ہوچکا تھا، اور لوگ اب بھاگ بھاگ کر شام خالی کررہے تھے، اور کوئی ان سے مقابلے کی ہمت نہیں کررہا تھا، ایسے میں امام ابن تیمیہ نے عزم کیا کہ تاتاریوں کا سیلاب روکنا ضروری ہے، بری طرح سے ہمت اور حوصلہ ہاری ہوئی اسلامی فوجوں اور ان کے سالاروں کو انہوں نے نیا حوصلہ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ بہت مشکل کام تھا، اس کے لئے یقین کی غیر معمولی طاقت درکار تھی، اور امام ابن تیمیہ یقین کی زبردست طاقت رکھتے تھے۔
امام ابن تیمیہ کے شاگرد وجانشین امام ابن قیم بیان کرتے ہیں کہ امام صاحب نے سالاروں اور سپاہیوں کے دلوں میں یقین بٹھایا کہ اس بار تاتاریوں کو شکست ہوگی، اور ظفرمندی مسلمانوں کے حصے میں آئے گی۔ لوگوں کو یقین نہیں آیا تو انہوں نے ستر بار قسم کھائی کہ فتح تم کو ہی ملے گی۔ لوگوں نے کہا ان شاء اللہ تو کہہ دیں، انہوں نے ان شاء اللہ کہا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس ان شاء اللہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ "اگر اللہ چاہے"، بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ "اللہ نے چاہ لیا ہے"۔ اور جب لوگوں نے آپ کی یقین دہانیوں پر بہت زیادہ حیرت وتعجب ظاہر کیا تو آپ نے کہا: زیادہ تعجب نہ کرو اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے کہ اس مرتبہ وہ شکست سے دوچار ہوجائیں گے، اور فتح اسلامی فوجوں کے حصے میں آئے گی۔ امام صاحب خود کہتے ہیں کہ میں نے دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلنے سے پہلے کچھ سالاروں اور سپاہیوں کو فتح کی شیرینی بھی کھلادی تھی۔ (ملاحظہ ہو امام ابن قیم کی کتاب مدارج السالکین)
اندیشہ ہے کہ بعض لوگ امام ابن تیمیہ کے ان بیانات کو سن کر ان پر گمراہی کے فتوے چپکانا شروع کردیں گے۔ لیکن میں اس واقعہ میں ایک عظیم قائد کی تصویر دیکھ رہا ہوں، جس نے پوری قوم کو ایک سنگین بحران سے باہر نکالا۔
جب مایوسی اور بددلی پھیل چکی ہو، منزل دور دور تک نظر نہیں آتی ہو، راستہ چلتے چلتے طبیعت شدید اکتاہٹ کا شکار ہوچکی ہو، لوگ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر راستہ بدلنے کی باتیں کرنے لگیں، مقصد سے فرار کی خوشنما تاویلیں کی جانے لگیں، اوپر سے نیچے تک سبھی نصب العین سے بیزاری کا شکار ہورہے ہوں۔ ایسے میں قائد کا یقین ہی ہمتوں اور حوصلوں کو جلا دینے والا واحد سرچشمہ رہ جاتا ہے۔
امام ابن تیمیہ نے فتح کو یقین کی آنکھوں سے دیکھا، اور پھر لوگوں کی آنکھوں میں یقین کی وہ روشنی تقسیم کردی۔ انہوں نے جب یہ محسوس کیا کہ لوگوں کے بے محل استعمال کی وجہ سے اس موقع پر ان شاء اللہ کہنا بھی انہیں کسی تردد میں مبتلا کرسکتا ہے، تو پہلے تو وہ بھی نہیں کہا، اور جب کہا تو ایسی وضاحت کے ساتھ کہا جو یقین میں غیر معمولی اضافہ کردے۔ انہوں نے الزاموں کی پرواہ کئے بنا یہ بھی کہہ دیا کہ اس بار فتح تم کو ملے گی یہ بات تو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے مرعوبیت اور دہشت کی شکار سپاہ کو فتح کی مٹھائی بھی کھلادی۔ یہ ایک پر یقین قیادت کی زبردست مثال ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان فوج نے ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کیا اور ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے تاتاریوں کو پسپائی پر مجبور کردیا۔
قائد کو یقین کی ایسی سچی دولت اس وقت حاصل ہوتی ہے، جب اس نے میدان کو اچھی طرح پڑھ لیا ہوتا ہے، ایسے پختہ اور انقلاب آفریں یقین کے پیچھے کوئی تباہ کن حماقت اور کوئی ہلاکت خیز فریب کارفرما نہیں ہوتا ہے، بلکہ حکمت وبصیرت اور فہم وفراست کی روشنی کے ساتھ یہ یقین پیدا ہوتا ہے۔ یقین کی قوت اور بصیرت کی روشنی سے مالامال قائد فتح کی مٹھائی کھلا کر تباہی کے گڑھے میں نہیں ڈھکیلتا ہے، بلکہ سچ مچ ظفر مندی کی جانب لے کر جاتا ہے۔ امام ابن تیمیہ نے تاتاریوں سے فیصلہ کن معرکے کا فیصلہ واقعات وحقائق کے گہرے جائزے کے بعد کیا تھا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ امام صاحب کو یہ یقین اور یہ بصیرت قرآن مجید سے عطا ہوئی تھی۔
اس وقت ساری دنیا میں مسلم امت بھی پست ہمتی کا شکار ہے اور اسلامی تحریکات بھی سخت آزمائشوں اور حوصلہ شکن مصیبتوں سے دوچار ہیں۔ کہیں مخالفت شدید ہے تو کہیں غفلت بڑھی ہوئی ہے۔ ایسے میں یقین کی روشنی اور فتح کی شیرینی تقسیم کرنے والے امام ابن تیمیہ جیسے قائد کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
پتے کی بات یہ ہے کہ ایسا قائد اعظم انتخابی عمل کے ذریعہ قیادت کے کسی منصب پر فائز نہیں ہوتا ہے، بلکہ گہری بصیرت اور جرأت مندانہ کردار کے ذریعہ قیادت کی بھاری بھاری ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ امام ابن تیمیہ کے پاس قیادت وسیادت کا کوئی معروف منصب نہیں تھا، بس ذمہ داری کا شدید احساس تھا جس نے تاریخ کے نہایت نازک موڑ پر ان سے قیادت کا عظیم کام کروادیا۔ یقین اور بصیرت سے بھر پور ذمہ داری کا یہ احساس بستی بستی اور قریہ قریہ بے شمار افراد میں پیدا ہوجائے تو امت کی تقدیر بدل جائے۔

قرآن کی تلاوت ایک عظیم اور بے مثال انتظام

قرآن کی تلاوت
ایک عظیم اور بے مثال انتظام
محی الدین غازی
اللہ پاک نے مسلم امت کو قرآنی امت بنانے کا بہت زبردست انتظام کیا ہے، اور وہ تلاوت قرآن کا انتظام ہے، اس انتظام پر جس قدر غور کریں یقین بڑھتا جاتا ہے کہ یہ ایک بے مثال اور خاص الہی انتظام ہے۔ اس انتظام کے ہوتے ہوئے امت اگر قرآن سے دور ہوجائے تو افسوس اور تعجب تو بہت ہوتا ہے، تاہم قرآن سے دوبارہ قریب ہوجانے کا بھرپور امکان بھی روشن نظر آتا ہے۔
اس انتظام کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کو کسی مخصوص طبقے کے لئے خاص کردینے کے بجائے اسے امت کے ہر فرد کا خاص مشغلہ بنادیا گیا، تلاوت کرنے کا بہت زیادہ اجر رکھا گیا تاکہ تلاوت کے لئے خوب تحریک ملے اور اس سے لوگوں کی دلچسپی ہمیشہ برقرار رہے، تلاوت کو ہر نماز کا حصہ بناکر تلاوت سے تعلق کو اور مضبوط کردیا گیا، ختم قرآن کی خصوصی فضیلت کا فائدہ یہ ہوا کہ بار بار پورے قرآن کی تلاوت کرتے رہنے کی راہ آسان ہوئی۔ حفظ قرآن کی فضیلت کا اثر یہ ہوا کہ قرآن کی ہر وقت تلاوت کرنے کا اہتمام ممکن ہوگیا، تلاوت میں بے نظیر صوتی حسن وجمال شامل کردیا گیا جس سے تلاوت ایک پرلطف اور روح افزا عمل بن گیا، اور شوق سے تلاوت کرنے کے ساتھ بہت بڑے پیمانے پر شوق سے تلاوت سننے کے سنہری مواقع بھی نکل آئے۔ قرآن کی تلاوت کے ذریعہ سے امت کو قرآن سے جوڑنے کا یہ ایسا زبردست انتظام ہے جس کی نظیر ساری دنیا میں نہیں ملے گی۔
قرآن کی تلاوت کا یہ عمومی انتظام امت کی رگ وپے میں اس طرح رچ بس گیا، کہ آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ تلاوت کچھ لوگوں کے کرنے کا کام ہے، سب کے کرنے کا کام نہیں ہے، سب نے متفق ہوکر کہا کہ تلاوت سب کے کرنے کا کام ہے۔
قرآن کی تلاوت ایک عظیم کام ہے، اور اس کام کا ایک نہایت بڑا مقصد ہے، اور وہ بڑا مقصد یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنی کثرت سے تلاوت کرنے کے ذریعہ قرآن کے عظیم ترین فوائد اور اعلی ترین مقاصد کو بہت اچھی طرح حاصل کیا جائے۔
تلاوت کا یہ زبردست اور بے مثال انتظام اس لئے کیا گیا کہ اس کے ذریعہ سے وہ عظیم امت تیار ہو جو قرآن کی صحیح ترجمان بنے۔ لیکن زمانے کے گزرتے لوگوں نے تلاوت ہی کو اصل کام سمجھ کر اسی پر اکتفا کرلیا، اور اس کے ذریعہ سے شریعت جاننے اور حکمت سیکھنے کے عظیم مقصد کو نظرانداز کردیا۔
کیسی محرومی کی بات ہے کہ انسان روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرے، لیکن دل ودماغ دونوں ہی زبان کا ساتھ دینے کے بجائے مکمل طور سے غیر حاضر رہیں، خوش الحان تلاوت زبان کو حلاوت عطا کرے، اور کانوں میں رس گھولے، مگر نہ دل میں کوئی بات اترے، اور نہ دماغ پر کوئی پیغام دستک دے۔ دل ودماغ سے بالکل غیر متعلق ہوکر اتنے شوق سے اتنا زیادہ پڑھنے کی کوئی اور مثال نہیں مل سکتی ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ کتاب الہی کا لفظ لفظ محفوظ ہو، اور اس کتاب محفوظ کی اتنے بڑے پیمانے پر اتنی کثرت کے ساتھ تلاوت کی جائے اور پھر بھی تلاوت کرنے والوں کا قرآنی کردار، قرآنی ذہن اور قرآنی مزاج نہیں بن سکے۔
سمجھ کر تلاوت کرنا بھی اگر سیکھنے کی نیت سے نہیں ہو بلکہ سمجھتے ہوئے تلاوت بھی صرف تلاوت کی نیت سے کی جائے تو سیکھنا حصے میں نہیں آتا ہے۔ اور جس نے قرآن سے سیکھا نہیں وہ قرآن کے اصل فائدے سے محروم رہا۔
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ عربی جانتے ہیں، مگر جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، تو اپنے دل ودماغ کو غیر حاضر کرکے تلاوت کرتے ہیں، ان کے پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ تلاوت کا ثواب مل جائے، تلاوت کا کوئی اور فائدہ ان کے سامنے ہوتا ہی نہیں ہے۔ حالانکہ تلاوت پر اجر اس لئے رکھا گیا کہ لوگ زیادہ شوق سے تلاوت کر کے دل ودماغ کو غذا اور توانائی عطا کریں۔
قرآن مجید اس لئے نازل ہوا ہے کہ وہ زمین پر بسنے والے انسانوں کی زندگی کو مثالی زندگی بنادے، ایمان اور عمل صالح ان کا طرہ امتیاز ہوجائے۔ ان کی سوچ اونچی سے اونچی ہوجائے، ان کا رویہ بہتر سے بہتر ہوجائے، اور ان کی ذات سب کے لئے مفید سے مفید تر ہوجائے۔
قرآن مجید کی تمام تعلیمات کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پر ایمان لانے والوں کی ایک عظیم قرآنی امت تشکیل پا جائے۔ جس کی پہچان قرآن مجید کی تعلیمات ہوں۔ دور اول میں ایمان والوں کو قرآن والا (یا أھل القرآن) کے نام سے پکارا جاتا تھا، قرآن مجید اس امت کی امتیازی خصوصیت ہے، اسے ساری دنیا کے سامنے اپنے قول وعمل اور اخلاق وکردار سے قرآن کی بہترین ترجمانی کرنی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی سنت یہی ہے کہ آپ کے ماننے والے بھی ہر طرح سے قرآن کا عملی نمونہ بن جائیں۔ یہ سنت ادا نہیں ہوئی تو گویا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل سنت ادا ہی نہیں ہوسکی۔
تلاوت کے اس زبردست انتظام کو جس قدر تقویت پہونچائی جائے، اچھا ہے۔ بھر پور تبلیغ کی جائے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ قرآن پاک ختم کریں، شدت سے ابھارا جائے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ قرآن پاک حفظ کریں، بار بار اکسایا جائے کہ تلاوت قرآن کی زیادہ سے زیادہ مجلسیں منعقد ہوں، خوش الحانی کے ساتھ خوب تلاوت ہو، اور لوگ شوق سے سنیں اور خوب سنیں۔ غرض قرآن کی تلاوت کا ہر طرف ماحول ہو، فرصت والے لوگ اپنے خالی اوقات تلاوت سے آباد کریں، اور مصروف لوگ تلاوت کے لئے اپنے اوقات فارغ کریں۔ تلاوت ہو اور خوب ہو، مگر ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ تلاوت محض تلاوت نہیں ہو، تلاوت کے ساتھ سمجھنے اور سمجھنے کے بعد سوچنے کا عمل بھی ضرور انجام پائے، اور جب جب تلاوت ہو سمجھنے اور سوچنے کے عمل کے ہمراہ ہو، اس کے بغیر کبھی نہیں ہو۔
غرض امت کو قرآن مجید سے قریب کرنے کے لئے کسی نئے انتظام کو قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ پہلے سے قائم ایک زبردست انتظام میں روح لوٹانے کی ضرورت ہے۔
جس دن امت کی تلاوت میں روح اور زندگی لوٹ آئے گی، امت کے بیمار جسم میں بھی ضرور زندگی اور صحت دوڑے گی، کیونکہ امت کی زندگی اور طاقت کا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔