سماجی خدمت، جذبہ اور سمجھ داری دونوں ضروری

سماجی خدمت، جذبہ اور سمجھ داری دونوں ضروری
محی الدین غازی
میں اپنے دو بھائیوں کے ساتھ صبح کار سے نکلا، بڑے شہروں کی سڑکیں صبح سے ہی مصروف ہوجاتی ہیں، ایک جگہ سڑک پر بھیڑ نظر آئی، گاڑی روک کر دیکھا تو اسکول کے یونیفارم میں دو چھوٹی بچیاں زخمی حالت میں زمین پر پڑی چیخ رہی تھیں، عمر یہی سات آٹھ سال رہی ہوگی، ایک کا پاؤں گھٹنے کے اوپر سے ٹوٹ کر لٹک گیا تھا، اور دوسری کے سر میں گہرا زخم تھا۔ یہ دونوں بچیاں اسکول جاتے ہوئے سڑک کراس کررہی تھیں، اور ایک موٹر سائیکل سے ٹکراگئی تھیں، موٹر سائیکل سوار ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جو اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ تھا، اس کی بیوی کو بھی پیر میں کچھ چوٹ آئی تھی۔ بھیڑ اچھی خاصی تھی، مگر سب تماشائی تھے، دیکھا گیا ہے کہ ایسے موقعوں پر بھیڑ کا رجحان زخمیوں کی مدد کی طرف کم اور ٹکر مارنے والے کی مرمت کرنے کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔
ہم نے بچیوں کو گود میں اٹھاکر کار میں ڈالا اور میرے دونوں بھائی انہیں لے کر ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ دو بچے اور تھے جن کو چوٹ نہیں آئی تھی، میں ان کے ساتھ بھاگا ہوا ان کے گھر گیا، گھر کیا تھا ایک خستہ حال چھوٹا سا کمرہ جس میں کئی خاندان رہ رہے تھے، معلوم ہوا دونوں بچیوں کی ماں بیوہ ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے چھ بچے ہیں جو ایک سال پہلے باپ کے مرجانے کے بعد سے یتیمی کی زندگی جی رہے ہیں، ماں گھروں میں کام کرتی ہے اور بچے ایک رفاہی اسکول میں پڑھتے ہیں، بڑا بچہ بارہ سال کا ہے اور وہ بھی چند روز پہلے ایک بڑے حادثے کا شکار ہوکر زیر علاج ہے۔ غرض یہ کہ غربت اور بے چارگی کا وہ عالم کہ بیان کرنا مشکل ہے۔
موٹر سائیکل سوار شہر سے قریب ایک گاؤں کا تھا، اس سے ہم نے مطالبہ کیا کہ وہ ساتھ چلے اور بچیوں کے علاج کی اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کرے، وہ اس پر راضی ہوا کہ وہ اپنی بیوی کو جسے پاؤں میں چوٹ آئی تھی مگر اسپتال جانے کو تیار نہیں تھی، گاؤں پہونچاکر اور بچیوں کے علاج کے لئے رقم کا انتظام کرکے تھوڑی دیر میں آئے گا، اور اس دوران اس کا بچہ ہمارے ساتھ رہے گا۔
میں نے اس بچے کو اور زخمی بچیوں کے گھر والوں کو ساتھ لیا اور ہاسپٹل پہونچ گیا۔ بچے سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے باپ آٹو رکشا چلاتے ہیں، اور معاشی حالات اچھے نہیں ہیں۔ اس پر ہم نے طے کیا کہ اخراجات کا بوجھ اس پر نہیں ڈالیں گے، ہم نے لڑکے کے باپ کو فون کیا کہ وہ رقم کے انتظام کی فکر نہ کرے اور ہاسپٹل آکر اپنے بچے کو لے جائے۔ اس دوران ہاسپٹل میں قانونی کارروائی کے لئے پولیس آگئی اور موٹر سائیکل سوار کے بارے میں دریافت کرنے لگی، ہم نے سوچا اس غریب کے ساتھ پولیس والے زیادتی کریں گے اس لئے خاموشی کو اختیار کیا، پولیس کانسٹیبل نے زخمی بچیوں کے ساتھ بہت ہمدردی کا اظہار کیا اور اپنی جیب سے پانچ سو روپے نکال کر ان کی ماں کو دئے، اور ہاسپٹل والوں کو بھی رعایت کی تاکید کی، ہم سب اس کے جذبہ انسانیت سے بہت متاثر تھے۔
بچے کو ہم نے ہاسپٹل کی کینٹین میں اچھا سا ناشتہ کرایا، اور وہیں استقبالیہ کے پاس بٹھادیا۔
جس بچی کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، اسے آپریشن کے لئے ایڈمٹ کرلیا گا، صبح سے دوپہر تک ہم سب ہاسپٹل میں رہے اور تمام کارروائی مکمل ہوجانے کے بعد بچے کو ہاسپٹل میں بٹھاکرآرام کرنے گھر چلے آئے، دوبجے بچے کے باپ کا فون آیا کہ وہ ہاسپٹل پہونچ گیا ہے، ہم لوگ ہاسپٹل پہونچے، اور وہاں پہونچتے ہی ایک نئی صورتحال کا سامنا کیا، بچے کے باپ کے ساتھ تین غنڈے ٹائپ نوجوان تھے، ان سب نے ہمیں گھیر لیا اور کہا کہ ہمیں ہمارا بچہ نہیں ملا ہے، وہ ہاسپٹل میں نہیں ہے، اور اس کی ذمہ داری تمہارے اوپر ہے، ہمارے تو پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی، ہم نے پورا ہاسپٹل چھان مارا لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں تھا، اس وقت مجھے اپنی دو شدید غلطیوں کا فورا احساس ہوا، ایک تو یہ کہ ہمیں اس بچے کو اپنے پاس روکنا نہیں چاہئے تھا، اور دوسرے یہ کہ جب روک لیا تھا، تو اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہئے تھا، تنہا ہاسپٹل میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہئے تھا۔ پولیس کو معاملہ سے فوری طور پر اور پوری طرح باخبر نہیں کرنا بھی ایک بڑی غلطی قرار دی جاسکتی ہے، لیکن پولیس کی زیادتیوں کا عوام میں اتنا زیادہ چرچا ہے اور اس قدر ذہنوں میں اس کا خوف ہے کہ اس غلطی کے لئے وجہ جواز مل جاتا ہے۔
خیر اللہ کی نصرت اور مدد رہی کہ تقریبا دوگھنٹے کی شدید ذہنی اذیت کے بعد اس مصیبت سے نکلنے کی راہ مل گئی، اور وہ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے کہ بچہ خود سے گھر پہونچ گیا ہوگا، اور کچھ دیر بعد اس کے گھر پہونچنے کی انہوں نے خبر بھی دے دی۔ تاہم قرائن صاف بتارہے تھے کہ یہ انہیں لوگوں کی سازش تھی، اور وہ اس طرح ہمیں تنگ کرنا چاہتے تھے، میں سوچ رہا تھا، کہ ہم نے بچے کے باپ کو ہاسپٹل کے اخراجات سے بچایا، پولیس کے چکر میں پھنسنے سے بچایا، اور اس سے پہلے حادثے کے وقت مشتعل بھیڑ کے عتاب سے بچایا، پھر اس نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ ممکن ہے اسے ہمارے سلسلے میں کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو، اور وہ ہمیں سبق سکھانا چاہتا ہو۔
تاہم واقعات سے بھرپور ایک پورا دن گزارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا کہ سماجی خدمت کے لئے سچا جذبہ درکار ہوتا ہے کہ اس کے بنا انسان خدمت سے جڑے خطرات مول نہیں لے سکتا، زبردست استقامت بھی ضروری ہوتی ہے کہ غیر متوقع رویے اور صدمے اس کے جذبہ خدمت کو سرد نہ کردیں، اور بہت زیادہ احتیاط اور سمجھ داری بھی مطلوب ہوتی ہے کہ انسانوں کی نفسیات اور حالات کی نزاکتیں مختلف اور بے شمار ہوتی ہیں، اور ان کو سمجھنے میں ذرا سی کوتاہی بڑی پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔ یہ پختہ شعور بھی ضروری ہے کہ انسانی سماج کا عام کیریکٹر کس قدر گر چکا ہے، اور اس گراوٹ کے باوجود انسانوں کے ساتھ نیکی کے سفر کو جاری رکھنا ہے، اور پھر اللہ سے تعلق اور استعانت تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ انسانوں کی مدد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور غیب سے ان کی مدد کرتا ہے، اور درحقیقت وہی کارساز ہے۔

بچوں کو غیبت کا زہر نہ پلائیں

بچوں کو غیبت کا زہر نہ پلائیں
محی الدین غازی
غیبت کرنا ایک بڑا گناہ، اور ہلاکت خیز برائی ہے، اس کی زہرناکیاں بہت زیادہ ہیں، یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ جب بڑے لوگ بچوں کے سامنے بڑوں کی غیبت کرتے ہیں، تو غیبت کا زہر کس طرح بچوں کی رگوں میں سرایت کرجاتا ہے، اور پھر ان کی کتنی مسموم اٹھان ہوتی ہے۔
ایک خاتون کو اپنے سسرالی رشتے داروں کی پیٹھ پیچھے برائی کرنے کا خاص شوق تھا، ان کے گھر جب کوئی پڑوسن یا سہیلی یا میکے کا کوئی رشتے دار آتا تو وہ جی بھر کر اپنے سسرالی رشتے داروں کی غیبت کیا کرتی تھیں، ان کے بچے بھی غور سے ان کی غیبتوں کو سنا کرتے تھے، بچے ذرا بڑے ہوئے تو انہوں نے خود ان بچوں سے ان کے دادا دادی، چچاؤں چچیوں اور پھوپھیوں کی برائیاں اور خامیاں بیان کرنا شروع کردیا۔
بڑے ہوتے ہوتے لڑکوں کا ذہن یہ بنا کہ ان کے خاندان کے سب لوگ بہت خراب، ان کے بدخواہ اور ان کے والدین کی حق تلفی کرنے والے ہیں، پورے خاندان میں صرف ان کے امی ابو اچھے ہیں، باقی سب خراب ہیں۔ کچھ عرصے بعد ان کے دل سے ان کے امی ابو کا احترام بھی کم ہونے لگا، کیونکہ فطری طور پر یہ باور کرنا ممکن نہیں تھا کہ دادا دادی اور سارے چچا اور ساری پھوپھیاں تو خراب ہیں اور صرف ابو جان گندگی کے ڈھیر میں گلاب کا پاکیزہ پھول ہیں۔ احترام کا پورا محل کھنڈر بن جائے تو ایک سالم دیوار بھی بدنما ہی لگتی ہے۔ ماں نے خاندان کے تمام بزرگوں کی وقعت گرائی، لیکن ساتھ ہی باپ کی وقعت بھی مٹی میں مل گئی، وہ وقت بھی آیا جب ان بچوں نے اپنے باپ کی پگڑی اچھالی، اور ماں کے ساتھ بدکلامی کی۔
لڑکیوں کا ذہن یہ بنا کہ سسرال ایک ایسا گھر ہوتا ہے، جس میں شوہر کے سوا سب لوگ نہایت شرپسند اور قابل نفرت ہوتے ہیں، ان سے جس قدر دور رہا جائے اتنا بہتر ہے۔ انہوں نے پہلی ہی نظر میں ساس اور نندوں کو چڑیلوں کی صورت میں دیکھا، اور کبھی انہیں آزمانے کی زحمت بھی نہیں کی۔ یہ مبالغہ نہیں بلکہ عین مشاہدہ ہے، اور ایک خاتون کی نہیں، بہت سارے گھروں کی کہانی ہے۔
میں ایک ایسی خاتون سے بھی واقف ہوں جس نے اپنے بچوں کے سامنے اپنے سسرالی رشتے داروں کی ہی نہیں بلکہ اپنی سوکن کی بھی ہمیشہ تعریف کی، بچوں کے دل میں دادا دادی کا احترام ایک عقیدے کی طرح بٹھایا۔ کبھی بچوں نے کسی پھوپھی یا چچی کی شکایت کرنے کی جرأت کی تو اس کو سختی سے ٹوک دیا، انجام کار خاندان کے سارے بزرگوں کا احترام کرنے والے بچے اپنے والدین کے احترام میں بھی پیش پیش رہے۔ بزرگوں کے احترام کے عالیشان مینار وقت کے ساتھ اور بلند ہوتے چلے گئے۔
جن بچوں کی تربیت غیبت کے سائے میں ہوتی ہے وہ زہریلے پودے کی طرح ہوجاتے ہیں، پھر ان سے کسی خیر کی امید رکھنا مشکل ہوتا ہے، ان کی نظر میں ہر شخص نہایت برا، خود غرض اور قابل نفرت ہوتا ہے۔ جبکہ انہیں بچوں کے معصوم ذہن کو اگر غیبت کے زہر سے بچائیں اور ان کے دلوں میں رشتے داروں کے لئے احترام اور محبت کو پروان چڑھائیں اوران کے سامنے دل کھول کر ان کے بڑوں کی خوبیوں کو بیان کریں تو وہ پورے خاندان کے لئے ایک سایہ دار درخت بن جاتے ہیں جس کے پھول بہت خوشبودار اور پھل نہایت شیریں ہوتے ہیں۔
غیبت کی زہرناکیوں نے اسلامی تحریک کو بھی بہت نقصان پہونچایا ہے، ایسے تحریکی بزرگوں سے میں واقف ہوں جن کی نجی مجلسوں اور گفتگووں میں بہت سارے رفقائے تحریک کی جم کر غیبت ہوا کرتی تھی، کسی کے کردار پر ضرب لگائی جاتی تھی تو کسی کی نیت پر حملہ کیا جاتا تھا، کسی کے معیار کو پست بتایا جاتا تھا تو کسی کے افکار میں کیڑے نکالے جاتے تھے، یہ غیبتیں ان کے بچے بھی غور سے سنا کرتے تھے، آخر بچوں کا ذہن یہ بنا کہ اسلامی تحریک میں نیچے سے اوپر تک سب لوگ بدعنوان اور مفاد پرست ہیں، تحریک اپنے راستے سے ہٹ گئی ہے اور منزل کو بھول گئی ہے، صرف ہمارے ابوجان اور ان کے دوچار دوست ہیں جو تحریک کے مخلص اور اس کے نصب العین کے امین ہیں۔ ہمارے ابوجان نے تحریک کے لئے بڑی قربانیاں دیں، لیکن لوگوں نے ذرا قدر نہیں کی۔ غرض یہ کہ تحریک کے گہوارے میں ایسی نسل تیار ہوئی جو تحریک کی قیادت کو مفاد پرست اور تحریکی کیڈر کو غیر مخلص سمجھتی تھی، اس کے خیال میں اس کے ابو نرے احمق تھے جو ایسے غلط لوگوں کے درمیان پھنس گئے تھے۔ چنانچہ نئی نسل نے خود کو اس ’’حماقت‘‘ سے دور رکھا۔
غیبت کا شوق فرمانے والے اگر ذرا سا غور کرلیں کہ ان کی غیبت کی وجہ سے ان کے بچوں کی شخصیت میں کس قدر ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، تو شاید اپنے بچوں کے اچھے مستقبل اور خوبصورت شخصیت کی خاطر ہی اس برائی سے خود کو پاک کرلیں۔

دل اپنا کام کرے، دماغ اپنا کام کرے

دل اپنا کام کرے، دماغ اپنا کام کرے
محی الدین غازی
دل کا کام محبت کرنا ہے، اور دماغ کا کام غوروفکر کرنا ہے، صحتمند انسان کے دل اور دماغ دونوں زندہ اور توانا ہوتے ہیں، اور دونوں اپنا اپنا کام خوبی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔
زندہ اور توانا دل محبت کرتا ہے، اس سے بھی جس کی رائے سے اتفاق ہوتا ہے، اور اس سے بھی جس کی رائے سے اختلاف ہوتا ہے، اس سے بھی جو اس کی رائے کو درست سمجھتا ہے، اور اس سے بھی جو اس کی رائے کو غلط قرار دیتا ہے۔ سمجھ دار دل رائے کے اتفاق واختلاف کو دماغ کے حوالے کردیا کرتا ہے، اور خود محبت کے عمل میں مصروف رہتا ہے۔
زندہ اور توانا دماغ غوروفکر کرتا ہے، غوروفکر کرتے ہوئے وہ اتفاق بھی کرتا ہے اور اختلاف بھی کرتا ہے، تائید بھی کرتا ہے اور تنقید بھی کرتا ہے، اور اس سارے عمل میں وہ اپنوں اور غیروں کی تفریق کو روا نہیں رکھتا ہے، وہ صحیح اور غلط تک پہونچنے کے لئے دلائل کا لحاظ کرتا ہے، نہ کہ کسی فرد یا گروپ کا۔
دماغ کی عظمت تنوع اور نیرنگی میں پنہاں ہوتی ہے، ایک صاحب دماغ جو دماغ کی قدروقیمت سے واقف ہو کبھی یہ خواہش نہیں کرسکتا کہ سوچ کی جن راہوں سے وہ گزرا ہے اور جس منزل تک وہ پہونچا ہے، سب لوگ وہیں سے گزریں اور وہیں تک پہونچیں، کیونکہ اگر تمام دماغ ایک دماغ کے تابع یا مطابق ہوجائیں، تو اتنے سارے دماغوں کی افادیت پر سوال کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہ خواہش تو معقول اور فطری ہے کہ جو میں نے سوچا ہے وہ دوسرے سمجھ لیں، لیکن یہ خواہش بچکانہ ہے کہ جو میں سوچتا ہوں وہی دوسرے بھی سوچیں۔
اجتماعیت ایک بابرکت چیز ہے، لیکن وہ اجتماعیت جس میں تمام افراد کے دل ودماغ اپنا اپنا کام خوبی کے ساتھ انجام دیتے رہیں، دماغ غور وفکر کرتے رہیں، اور دل محبت کرتے رہیں۔
ایک اجتماعیت میں جب سارے دماغ اختلاف واتفاق کی پرواہ کئے بنا پوری آزادی کے ساتھ سوچتے ہیں، تو ترقی کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں، اور فتوحات کا سلسلہ دراز ہوتا ہے، اور جب دماغ خود سوچنا بند کرکے دوسروں پر تکیہ کرنے لگتے ہیں، تو جمود طاری ہوجاتا ہے، اور پھر ترقی کی راہیں بند ہوجاتی ہیں اور فتوحات کا سلسلہ رک جاتا ہے۔
ایک اجتماعیت میں جب سارے دل محبتوں کے موتی لٹاتے ہیں، اور چاہتوں کی خوشبو بکھیرتے ہیں، تو رایوں کے بہت زیادہ اختلاف کے باوجود اجتماعیت سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار بنی رہتی ہے۔ لیکن جب دل بیمار ہوکر محبت کرنا بند کردیتے ہیں، تو فتنے سر اٹھاتے ہیں، گروپ بندیاں ہوتی ہیں، اور ماحول اس قدر زہر آلود ہوجاتا ہے کہ پھر دماغوں کا غوروفکر بھی اجتماعیت پر گراں گزرتا ہے۔
غوروفکر کرنا دماغ کا کام ہے، مگر ہے محنت طلب، اور محبت کرنا دل کا کام ہے، مگر ہے مشقت سے بھرپور۔ اس لئے ناتواں دماغ غوروفکر سے بھاگتا ہے، اور داخلی انتشار کے اندیشے کوغوروفکر سے فرار کا بہانہ بنالیتا ہے۔ بیمار دل بھی محبت سے کتراتا ہے، اور رائے کے معمولی اختلاف کو محبت سے فرار کا بہانہ بنالیتا ہے، دماغوں کے اختلاف کے باوجود اگر دل محبت کرتے رہیں، تو سمجھ لیں کہ دل زندہ اور توانا ہیں۔
میں نے پروفیسر نجات اللہ صدیقی کی کتاب ’’مقاصد شریعت‘‘ پر تنقید لکھی، اور کہیں کہیں حد ادب سے تجاوز بھی کرگیا، میں نے ڈاکٹر وسیم احمد فلاحی کی تحریروں پر تنقید کی اور کہیں کہیں معروضیت کے تقاضے پورے نہیں کرسکا، تاہم ان دونوں نے میری تنقید کے بعد اپنی محبتوں میں اور اضافہ کردیا، ان دونوں خوش گوار تجربات سے میں نے جانا کہ شدید اختلاف رائے کے باوجود بہت زیادہ محبت کی جاسکتی ہے، صرف دل کا صحت مند ہونا شرط ہے۔
بسا اوقات اجتماعیت کو داخلی انتشار سے بچانے کے لئے اختلاف رائے کی آزادی اور غوروفکر کے مواقع کو محدود کردیا جاتا ہے، یہ رجحان تعلیمی اداروں اور اصلاحی تحریکوں میں بھی دیکھا جاتا ہے، یہ دراصل مرض کی غلط تشخیص اور مریض کا غلط علاج ہے، داخلی انتشار دماغوں کی فعالیت سے نہیں بلکہ دلوں کے بیمار ہوجانے سے پھیلتا ہے، اس لئے دماغوں پر قدغن لگانے کے بجائے دلوں کے علاج پر فوری توجہ دینا چاہئے۔ دماغوں پر پابندی لگانے سے انتشار تو ختم نہیں ہوتا ہے، البتہ جمود ضرور طاری ہوجاتا ہے۔
کسی دانا حکیم کا قول ہے ’’ دلوں میں فرق آجانا بیماری ہے، اور دماغوں میں فرق ہونا مالداری ہے‘‘ (اختلاف القلوب داء واختلاف العقول ثراء)۔ دینی گھرانوں، دینی جماعتوں اور دینی اداروں کے لئے زیبا یہی ہے کہ جو بیماری ہے اس کے علاج کی فکر کریں، اورجو مالداری ہے اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

آپ ڈائس پر کیوں بیٹھیں؟

آپ ڈائس پر کیوں بیٹھیں؟
محی الدین غازی
ڈائس کی مروجہ شکل دراصل "اونچ نیچ تہذیب" کی یادگار ہے، یہ اس سوچ کا اظہار ہے کہ پنڈال میں موجود کچھ لوگ باقی سب لوگوں سے زیادہ احترام کے مستحق ہیں، چنانچہ ان کو با ادب اور با لقب ڈائس پر بیٹھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ مقرر بھی اپنی تقریر کے آغاز میں ڈائس پر بیٹھے لوگوں کا نام لے کر ان کی عظمت وفوقیت کا اعلان کرتا ہے۔
ڈائس پر بیٹھے ہوئے لوگ عام طور سے خود کو تقریر کا مخاطب نہیں سمجھتے ہیں، اسی لئے مقرر اور لاوڈ اسپیکر دونوں کا رخ ان کی طرف نہیں ہوتا ہے، بلکہ صرف سامعین کی طرف ہوتا ہے، ڈائس کے لوگ تو تمام وقت سامعین سے آنکھیں چرانے یا آنکھیں چار کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، جب وہ اس کام سے اکتا جاتے ہیں، تو آپس میں کھسر پسر شروع کردیتے ہیں، دیکھا دیکھی سامعین بھی آپس میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈائس پر تشریف فرما کسی صاحب کو نیند آجاتی ہے، اور ان کی بند آنکھیں اور کھلا ہوا منھ سامعین کو پیغام دیتا ہے کہ وہ بھی نیند کی آغوش میں پناہ لے سکتے ہیں۔
ڈائس پر بیٹھے ہوئے لوگ چونکہ بہت اہم اور مصروف قسم کی مخلوق ہوتے ہیں، اس لئے موبائل فون کی مصروفیت بھی ساتھ رکھتے ہیں، ان کے پاس فائلیں بھی آتی رہتی ہیں، جن پر وہ دستخط فرمایا کرتے ہیں، بعض مطالعہ کے شوقین وقت گزاری کے لئے ڈائس پر کتابیں بھی لے کر آتے ہیں، اور مطالعہ کرتے ہوئے تقریر سے اپنی بے نیازی کا اظہار فرماتے ہیں، ایسا بھی ہوتا ہے کہ مقرر کی کسی بات سے اختلاف ہونے پر ناگواری کا ایک گہرا تاثر ڈائس پر بیٹھے کسی صاحب کے چہرے پر آتا ہے اور تمام سامعین میں پھیل جاتا ہے۔ غرض کافی غور وخوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ ڈائس پر بیٹھے ہوئے لوگ مقرر اور سامعین کو ڈسٹرب کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے ہیں۔
ڈائس پر پانی کی بوتلیں رہتی ہیں اور چائے بسکٹ کا دور بھی گاہے بہ گاہے چلتا رہتا ہے، سامعین کی للچاتی نگاہوں اور پیاسے ہونٹوں سے بے پرواہ ہوکر ڈائس والے تھوڑی تھوڑی دیر میں چسکی بھی لیتے رہتے ہیں، یہ مزے دیکھ کر اگر کسی شخص کے دل میں ڈائس پر بیٹھنے کی خواہش پیدا ہوجائے تو وہ سراسر فطری خواہش قرار پائے گی، لیکن اس کا اختیار صرف منتظمین جلسہ کو ہوتا ہے کہ وہ کس کی خواہش کو تکمیل کا موقعہ دیں۔
ڈائس پر بیٹھ کر خود نمائی کے شوق کو کافی غذا ملتی ہے، ڈائس پر نہیں بیٹھ پانے اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو مسلسل دیکھنے سے دل میں حسرت اور حسد کے جذبات پنپتے کا اندیشہ رہتا ہے۔ چونکہ ڈائس کتنا ہی بڑا ہو، جلسہ گاہ کے برابر نہیں ہوسکتا، اس لئے بہت سارے "قائدین" ناراض بھی ہوجاتے ہیں، کہ پنڈال میں سامعین کے درمیان بٹھاکر ان کی تذلیل کی گئی۔ اس کے لئے بڑے سے بڑا ڈائس بنانے کا تکلف کیا جاتا ہے، حالانکہ اگر ڈائس پر کسی کو نہیں بٹھایا جائے، تو کسی کو ناراضگی نہ ہو، اور بڑے ڈائس پر ہونے والی فضول خرچی سے بھی بچا جاسکے۔
اسلامی تہذیب میں لوگوں کے نفس کو متورم کرنے والے مواقع کی گنجائش نہیں ہوتی ہے، ہر ہر قدم پر خاص اور عام کا فرق جتاکر انسانی قدروں کو پامال نہیں کیا جاتا ہے، اسلامی تہذیب میں ڈائس کی شکل میں خواص کی نمائش نہیں ہوتی ہے، سادہ سا منبر ہوتا ہے، جمعہ کا خطبہ ایک فرد منبر پر کھڑے ہوکر دیتا ہے، اور باقی تمام صرف سامعین ہوتے ہیں، ان میں عام اور خاص کی تقسیم نہیں ہوتی ہے، جو پہلے پہونچتا ہے وہ پہلی صف کا حقدار ہوتا ہے، سب کی توجہ خطیب کی طرف ہوتی ہے، اور خطیب کی توجہ سب کی طرف ہوتی ہے۔ اس طریقے میں کوئی عیب نہیں ہے، اور یہ طریقہ اعلی انسانی اقدار کے مطابق ہے، یاد رہے کہ جدید تمدن نے بھی عام طور سے "ڈائس برائے مقرر" کے اصول کو اپنایا ہوا ہے۔
اس لئے ڈائس پر بیٹھے تمام معزز حضرات سے گذارش ہے کہ سامعین کے درمیان تشریف لائیں، سامعین آپ کا تہ دل سے استقبال کرتے ہیں۔ یا پھر وجہ بتائیں کہ آپ ڈائس پر کیوں بیٹھیں؟؟

رکوع، عبادت کا ایک اعلی مقام

رکوع، عبادت کا ایک اعلی مقام
محی الدین غازی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "رکوع میں رب کی تعظیم کرو" آپ نے رکوع میں ہم کو سبحان ربی العظیم پڑھنے کی تعلیم دی، جس کا مطلب ہے کہ "میرا رب عظیم ہے، اور میں اپنے عظیم رب کی پاکی اور عظمت کے گن گاتا ہوں" یہ ذکر رکوع کے دوران بندے کے دل کی کیفیت کو اس کے جسم کی کیفیت کے مطابق کردیتا ہے۔ اس مختصر مگر عظیم الشان ذکر کے تین اجزاء ہیں، اور تینوں بہت معنی خیز اور ایمان افروز ہیں، ان پر جتنا زیادہ غور کریں، رکوع کی لذت میں اضافہ ہوتا ہے۔
(ربی) "میرا رب"، کتنا پیارا ہے یہ لفظ، اور کتنا دل افروز ہے اس کا مفہوم، میں خوش نصیب ہوں کہ میں نے اپنے رب کو پالیا، اگر میں اپنے رب کو نہیں پاتا تو نہ جانے کہاں کہاں اور کس کس کے در پر سر کو جھکاتا رہتا، میری روح کو اپنے رب کے سامنے نہ جھک پانے کی محرومی بھی ستاتی، اور دوسروں کے سامنے جھکنے کی اذیت اور رسوائی بھی ساتھ لگی رہتی۔
(العظیم) میرا رب عظیم ہے، اور میں خوش قسمت ہوں کہ ایک عظیم ہستی کے سامنے جھکنے کا موقعہ اور توفیق ملی، اس کے آگے جھک جانے سے میرے پورے وجود کی عظمت بڑھ گئی، دنیا میں بہت سارے لوگ جھکتے ہیں، لیکن وہ عظیم ہستی کے سامنے نہیں جھکتے ہیں، وہ ان کے سامنے جھکتے ہیں جن کو خود اپنے رب کے سامنے جھکنا چاہئے، عظمت سے خالی ہستیوں اور نقص سے بھرپور چیزوں کے سامنے جھک جانا تو خود کو ذلیل کرنا ہے، جبکہ وہ ہستی جو محسن حقیقی ہے اور عظیم وباکمال ہے، اس کے آگے جھک جانا خود کو سربلند کرلینا ہے۔
رب عظیم کی عظمت کا اعتراف کرنے یا نہیں کرنے سے رب کی عظمت پر فرق نہیں پڑتا، وہ تو غنی اور حمید ہے، لیکن عظمت کا اعتراف کرلینے سے بندے کو اپنا حقیقی مقام ضرور حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ بندے کا اصل مقام رب کی عظمت کا اعتراف ہے، اس سے اونچے مقام کا کوئی بندہ تصور نہیں کرسکتا، اور یہ ایک بندے کے لئے بہت اونچا مقام ہے۔
(سبحان) میں پاکی اور عظمت کے گن گارہا ہوں، تسبیح بہت بامعنی لفظ ہے، یہ شکر بھی ہے، تعظیم بھی ہے، اور تقدیس بھی ہے۔ بندہ خوش نصیب ہوجاتا ہے جب اسے کائنات کا سب سے عظیم الشان نغمہ گانے کا موقعہ ملتا ہے۔ اسے اپنے عظیم رب کے سامنے جھک کر یہ کہنے کا موقعہ مل جاتا ہے کہ میرا رب میرا محسن ومنعم ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور ہر کمال سے متصف ہے۔
بندوں پرعظیم رب کے بہت زیادہ احسانات ہیں، اتنے احسانات ہیں کہ بندہ شمار نہیں کرسکتا، اور ہر بندہ اتنا بے بساط ہے کہ ان احسانات کا محض شکر ادا کرسکتا ہے، اور اس کے لئے بھی اللہ کی دی ہوئی توفیق کا محتاج ہوتا ہے، بندے کے اندر شکر گزاری کی ایک پیاس ہوتی ہے، اور جب بندہ رکوع میں جاکر اپنے عظیم رب کی تسبیح کرتا ہے تو اس کی روح کو بلا کی آسودگی نصیب ہوتی ہے۔ جن کو شکر کی توفیق نہیں ملتی ان کی روح ہمیشہ پیاس سے تڑپتی ہے۔
بندہ اس وسیع کائنات کی ہر شئے میں اپنے رب کی کاریگری دیکھتا ہے، ہر طرف اس کی صناعی کے جلوے نظر آتے ہیں، وہ اس کی صناعی کی داد دینا چاہتا ہے، اور اپنے رب کے سامنے رکوع کرکے وہ اپنے اس جذبے کی تکمیل کرلیتا ہے۔ رکوع کی حالت میں بندے کی نظر سامنے زمین پر ہوتی ہے، مگر بندے کا خیال اللہ کی عظمت کی گواہی دینے والی پوری کائنات کی سیر کررہا ہوتا ہے، اس کے سامنے کائنات میں بکھری ہوئی رب کی روشن نشانیاں بھی ہوتی ہیں اور ہر طرف کارفرما اس کی اعلی صفات بھی ہوتی ہیں۔
رکوع کی حالت میں بندے کے قدم زمین پر ایک جگہ جمے ہوتے ہیں، لیکن اس کی روح ان گنت قدوسیوں کے ساتھ بہت اعلی مقامات کی جانب پرواز کررہی ہوتی ہے، وہ مقامات جو ادراک کی حد سے پرے ہیں۔ فَالَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْأَمُونَ [فصلت:38]۔ " تو وه جو تمہارے رب کے پاس ہیں وه تو رات دن اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور کبھی نہیں اکتاتے"۔
رکوع کی حالت میں رب کے سامنے صرف سر نہیں جھکتا ہے، بلکہ پورا وجود جھک جاتا ہے، اور اس طرح صرف سربلند نہیں ہوتا بلکہ پورا وجود سربلند ہوجاتا ہے۔ اور پھر وہ کسی اور کے آگے نہیں جھکتا، کیونکہ پھر بندہ اس یقین سے سرشار ہوجاتا ہے کہ میرے رب کے سوا نہ کوئی میرا رب ہے، نہ کوئی العظیم ہے، اور نہ کوئی تسبیح کے لائق ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں کبھی یہ ذکر بھی پڑھتے تھے: اللهمَّ لكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، ولَكَ أسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي ومُخِّي وَعَظْمِي وَعَصبِي۔ "اے اللہ میں نے تیرے سامنے رکوع کیا، تیرے اوپر ایمان لایا، خود کو تیرے حوالے کیا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ میری ہڈیاں اور میری رگیں، سب تیرے سامنے جھک گئے" یہ ایمان افروز الفاظ رکوع کی حقیقی روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
بندہ اپنے رب کے سامنے جب رکوع کی حالت میں ہوتا ہے، تو اسے بڑی آسودگی حاصل ہوتی ہے، گو کہ وہ اپنے رب کو دیکھ نہیں پاتا ہے، لیکن اس کے یقین کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے، اور اس کے اطمینان کے لئے یہ احساس کافی ہوتا ہے، کہ اس کے رب نے اسے اپنے سامنے رکوع کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس احساس میں بے پناہ لذت ہوتی ہے۔
جن سعید بندوں کو رکوع کی حقیقی لذت حاصل ہوجاتی ہے، ان کے رکوع بڑے اہتمام سے اور خوب طویل ہوتے ہیں، اور ان طویل رکوعوں میں سبحان ربی العظیم کی تکرار کرتے ہوئے جسم کی حالت، زبان کی حرکت اور دل کی کیفیت تینوں سے رب عظیم کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے۔

"سب رائیں اچھی ہیں"

"سب رائیں اچھی ہیں"
محی الدین غازی
ہم مسلمانوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو نہیں پایا ہے، تاہم جذبہ اور خواہش یہی ہے کہ ہماری ہر عبادت اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق ہو، ہمارا یہ یقین بھی ہے کہ عبادت وہی قابل قبول ہوگی جو اللہ کے رسول کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہو۔ ہم نے چونکہ عہد رسالت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اس لئے ہم کسی طریقہ کو سنت ماننے کے لئے ایسے دلائل تلاش کرتے ہیں جن کی بنیاد پر کسی عمل کو سنت مانا جاسکے۔
تراویح کتنی رکعت پڑھی جائے اس سلسلے میں دو سے زیادہ رائے ہیں، تاہم حالیہ زمانے میں دو رائیں زیادہ مشہور ہیں، ایک رائے آٹھ رکعت کی ہے، اور دوسری رائے بیس رکعت کی ہے، دونوں کے ماننے والے دلائل بھی رکھتے ہیں، میں نے جب دونوں کے دلائل کا مطالعہ کیا، تو اس نتیجہ پر پہونچا کہ دونوں کے دلائل بہت مضبوط ہیں، اور کسی عمل کو سنت مان لینے کے لئے جن دلائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ دونوں کے پاس ہیں، بیس رکعت کا سنت ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں مسجد نبوی میں انصار ومہاجرین کی موجودگی میں جماعت کے ساتھ بیس رکعت تراویح پڑھی گئی اور کسی نے اعتراض نہیں کیا، اگر یہ عمل سنت سے مختلف ہوتا تو کوئی تو اعتراض کرتا۔ آٹھ رکعت کا سنت ہونا اس سے ثابت ہے کہ روایتوں کے مطابق اللہ کے رسول کا قیام لیل آٹھ رکعت کا ہوا کرتا تھا۔
تمام روایات کو دیکھتے ہوئے اس بات پر اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول قیام لیل میں خود آٹھ رکعت پڑھتے تھے، اور آپ نے صحابہ کو بیس رکعت پڑھنے کی بھی تعلیم دی تھی، چنانچہ کچھ صحابہ آٹھ پڑھتے تھے، اور کچھ صحابہ بیس پڑھتے تھے۔ اور صحابہ کے نزدیک دونوں عمل سنت کا درجہ رکھتے تھے۔
صحابہ کے زمانے میں اصل توجہ اس پر ہوتی تھی کہ ماہ رمضان کی راتوں کا زیادہ حصہ نماز پڑھتے ہوئے گزارا جائے۔ نماز میں طویل قیام کرنے والے آٹھ رکعت پڑھتے تھے، مختصر قیام کرنے والے بیس رکعت پڑھتے تھے، مزید مختصر قیام کرنے والے چھتیس رکعت بھی پڑھ لیتے تھے، سب کا ہدف ایک ہوتا تھا، کہ رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزرے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آٹھ رکعت پڑھنے والے ہوں یا بیس رکعت پڑھنے والے، تھوڑے سے وقت میں سب لوگ فارغ ہوجاتے ہیں، اور پھر اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ قیام لیل کا حق ادا ہوگیا۔ تعداد کے مسئلے سے آگے بڑھ کر قیام لیل کی اس روح کو عام کرنے کی ذمہ داری ان تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو نبی کی سنت کو عام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
تراویح کے سلسلے میں مطالعہ کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ کا ایک جملہ میری نظر سے گزرا، اور میں نے نگینہ حکمت سمجھ کر اسے اپنے دل میں محفوظ کرلیا۔ علامہ نے تراویح کے سلسلے میں تین رایوں کا ذکر کرنے کے بعد کہا: الصَّوَابُ أَنَّ ذَلِكَ جَمِيعَهُ حَسَنٌ (صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب رائیں اچھی ہیں) میں سمجھتا ہوں کہ علامہ ابن تیمیہ کا یہ جملہ اتحاد امت کی تدبیری کوششوں کے لئے نقش راہ بن سکتا ہے، بہت سارے اختلافی مسائل ایسے ہیں جن میں ہر رائے کے حق میں مضبوط دلائل ہوتے ہیں، لیکن بعض لوگوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنی رائے کے دلائل کو مضبوط اور دیگر تمام رایوں کے دلائل کو کمزور ثابت کریں، اس سے کسی ایک رائے پر اتفاق تو دور کی بات ہے، آپس کے اختلافات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ سنت پر عمل کرنے کا جذبہ بلاشبہ لائق ستائش ہے، لیکن یہ ثابت کرنے کا جذبہ قابل تعریف نہیں ہے کہ سنت پر عمل پیرا صرف میں ہوں باقی سب سنت سے دور ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر کچھ مسائل میں تمام رایوں کے ماننے والے اپنے دلائل کے ساتھ دوسروں کے دلائل کی مضبوطی کا بهی اعتراف کرلیں، اور سب مل کر کہیں کہ "سب رائیں اچھی ہیں" تو اتحاد واتفاق کی ایک اچھی فضا تیار ہوسکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ "سب رائیں اچھی ہیں" کہنا ہر مسئلے میں ممکن نہیں ہے، بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں رایوں میں تعارض ہوتا ہے اور کوئی ایک ہی رائے درست ہوسکتی ہے، لیکن ایسے بہت سارے مسائل پائے جاتے ہیں جن میں آسانی کے ساتھ ساری رایوں کو درست کہا جاسکتا ہے، اس کی مثال تراویح کا معاملہ ہے، کہ آٹھ پڑھنے اور بیس پڑھنے میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، بڑی آسانی سے ایک ہی مسجد میں کچھ لوگ آٹھ اور کچھ لوگ بیس رکعت پڑھ سکتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے عمل کو سنت کے مطابق سمجھ سکتے ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کی نمازوں کا احترام کرسکتے ہیں، صرف نقطہ نظر کو تبدیل کرنے اور دلوں کو کشادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
امت میں اتحاد واتفاق کی فضا ہموار کرنے کی ایک تدبیری کوشش یہ ہوسکتی ہے کہ ایسے تمام مسائل کو جمع کیا جائے جن میں ہر رائے کی پشت پر مضبوط دلائل ہوں، اور ان رایوں میں باہم تعارض بھی نہ ہو، اور ہر سال کم از کم کسی ایک مسئلے کے سلسلے میں سب مل کر اعلان کریں کہ اس مسئلے میں "سب رائیں اچھی ہیں"۔ بلاشبہ اتحاد امت کی اس تدبیری کوشش میں علماء، دینی جماعتیں اور دینی مدارس زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔

قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنا لازم کرلیں

قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنا لازم کرلیں
محی الدین غازی
ایک سفر میں مجھے ایک تعلیم یافتہ صاحب کی رفاقت حاصل ہوئی، انہوں نے دینی نوعیت کے مختلف سوالات کئے، سوالوں کے جواب دیتے ہوئے میں نے ان سے کہا آپ قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھیں آپ کو بہت سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے، اس پر وہ مجھ سے بحث کرنے لگے کہ قرآن مجید عام لوگوں کے سمجھنے کی کتاب نہیں ہے، صرف بڑے علماء اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اس بحث کو ایک طرف رکھیں، یہ بحث نہ دنیا میں آپ کے کام آئے گی اور نہ آخرت میں، میری التجا بس اتنی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے ایک بار ضرور پورا قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے موت آجائے اور آپ یہ جانے بغیر دنیا سے رخصت ہوجائیں کہ اللہ پاک نے آپ کے لئے جو کتاب بھیجی تھی اس میں کیا تھا۔
درحقیقت یہ جانے بنا کہ قرآن مجید میں کیا لکھا ہے اس دنیا سے چلے جانا بہت بڑے خطرے کا سودا(highly risky) ہے۔
جو لوگ عربی نہیں جانتے ہیں، ان کو اپنے اوپر اسے ضروری قرار دے دینا چاہئے کہ وہ قرآن مجید پڑھیں، اور جب بھی پڑھیں ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔
ترجمے کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک آیت پڑھیں اور اس کے ساتھ ہی اس کا ترجمہ پڑھیں، پھر اگلی آیت اس کے ترجمہ کے ساتھ پڑھیں۔ آیت بہ آیت ترجمے کو اپنا معمول بنالیا جائے تو بہت سارے فائدے حاصل ہوں گے۔
ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اس طرح بار بار قرآن مجید پڑھنے کے نتیجے میں آیتیں اپنے ترجمے کے ساتھ ذہن نشین ہوتی جائیں گی۔ اور جب آپ قرآن مجید کی کوئی آیت سنیں گے تو اس کا مفہوم اسی وقت ذہن میں پہونچے گا۔
دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ قرآنی عربی آنے لگے گی، الفاظ کا مطلب یاد ہونے لگے گا، اور کچھ عرصے کے بعد آپ اپنے آپ کو قرآنی عبارت سے قریب محسوس کرنے لگیں گے۔
آیت بہ آیت ترجمہ پڑھنے کا ایک ثمرہ یہ ہوگا کہ نماز میں امام کی تلاوت سن کر آیتوں کا مفہوم آپ کے ذہن میں پہونچنے لگے گا، اور آپ کو نماز میں پہلے سے بہت زیادہ لطف آنے لگے گا۔
اور سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوگا کہ قرآن مجید کا پیغام آپ کے دل ودماغ تک پہونچ جائے گا۔
میرا اندازہ ہے کہ اگر کوئی شخص سال میں تین مرتبہ پورا قرآن مجید آیت بہ آیت ترجمہ کے ساتھ ختم کرلے، تو تین سال میں اس کو اچھی خاصی قرآنی عربی آجائے گی۔
واضح رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے تابعین نے کبھی قرآن مجید کی عبارت کو بنا سمجھے نہیں پڑھا، اس لئے اصولی بات یہی ہے کہ ہر آیت کو سمجھ کر پڑھا جائے، اس کا سب سے افضل طریقہ تو یہ ہے کہ اتنی عربی سیکھ لی جائے جو قرآن مجید سمجھنے کے لئے کافی ہو، ہمت کرنے والوں کے لئے یہ بھی کوئی بڑا کام نہیں ہے، تاہم جب تک عربی نہیں آئے، ترجمہ کی مدد لینا اپنے لئے ضروری قرار دینا چاہئے۔
اب تک قرآن مجید کے ترجمہ کو رواج دینے کے سلسلے میں جو کوششیں ہوئی ہیں، وہ قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کو ایک جائز یا مستحب کام قرار دے کر ہوئی ہیں، لیکن بگاڑ کے اسباب جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اصلاح کی انسانی کوششیں جس طرح بے بسی کا شکار ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ عربی نہیں جاننے والوں کے لئے ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے کو واجب قرار دینے پر اہل علم غور کریں۔ ذاتی طور پر میں اسی نتیجے پر پہونچا ہوں کہ عربی نہیں جاننے والوں کے لئے ترجمہ کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا واجب ہے، اور مجھے اپنی اس رائے پر پورا اطمینان ہے۔