رکوع، عبادت کا ایک اعلی مقام

رکوع، عبادت کا ایک اعلی مقام
محی الدین غازی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "رکوع میں رب کی تعظیم کرو" آپ نے رکوع میں ہم کو سبحان ربی العظیم پڑھنے کی تعلیم دی، جس کا مطلب ہے کہ "میرا رب عظیم ہے، اور میں اپنے عظیم رب کی پاکی اور عظمت کے گن گاتا ہوں" یہ ذکر رکوع کے دوران بندے کے دل کی کیفیت کو اس کے جسم کی کیفیت کے مطابق کردیتا ہے۔ اس مختصر مگر عظیم الشان ذکر کے تین اجزاء ہیں، اور تینوں بہت معنی خیز اور ایمان افروز ہیں، ان پر جتنا زیادہ غور کریں، رکوع کی لذت میں اضافہ ہوتا ہے۔
(ربی) "میرا رب"، کتنا پیارا ہے یہ لفظ، اور کتنا دل افروز ہے اس کا مفہوم، میں خوش نصیب ہوں کہ میں نے اپنے رب کو پالیا، اگر میں اپنے رب کو نہیں پاتا تو نہ جانے کہاں کہاں اور کس کس کے در پر سر کو جھکاتا رہتا، میری روح کو اپنے رب کے سامنے نہ جھک پانے کی محرومی بھی ستاتی، اور دوسروں کے سامنے جھکنے کی اذیت اور رسوائی بھی ساتھ لگی رہتی۔
(العظیم) میرا رب عظیم ہے، اور میں خوش قسمت ہوں کہ ایک عظیم ہستی کے سامنے جھکنے کا موقعہ اور توفیق ملی، اس کے آگے جھک جانے سے میرے پورے وجود کی عظمت بڑھ گئی، دنیا میں بہت سارے لوگ جھکتے ہیں، لیکن وہ عظیم ہستی کے سامنے نہیں جھکتے ہیں، وہ ان کے سامنے جھکتے ہیں جن کو خود اپنے رب کے سامنے جھکنا چاہئے، عظمت سے خالی ہستیوں اور نقص سے بھرپور چیزوں کے سامنے جھک جانا تو خود کو ذلیل کرنا ہے، جبکہ وہ ہستی جو محسن حقیقی ہے اور عظیم وباکمال ہے، اس کے آگے جھک جانا خود کو سربلند کرلینا ہے۔
رب عظیم کی عظمت کا اعتراف کرنے یا نہیں کرنے سے رب کی عظمت پر فرق نہیں پڑتا، وہ تو غنی اور حمید ہے، لیکن عظمت کا اعتراف کرلینے سے بندے کو اپنا حقیقی مقام ضرور حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ بندے کا اصل مقام رب کی عظمت کا اعتراف ہے، اس سے اونچے مقام کا کوئی بندہ تصور نہیں کرسکتا، اور یہ ایک بندے کے لئے بہت اونچا مقام ہے۔
(سبحان) میں پاکی اور عظمت کے گن گارہا ہوں، تسبیح بہت بامعنی لفظ ہے، یہ شکر بھی ہے، تعظیم بھی ہے، اور تقدیس بھی ہے۔ بندہ خوش نصیب ہوجاتا ہے جب اسے کائنات کا سب سے عظیم الشان نغمہ گانے کا موقعہ ملتا ہے۔ اسے اپنے عظیم رب کے سامنے جھک کر یہ کہنے کا موقعہ مل جاتا ہے کہ میرا رب میرا محسن ومنعم ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور ہر کمال سے متصف ہے۔
بندوں پرعظیم رب کے بہت زیادہ احسانات ہیں، اتنے احسانات ہیں کہ بندہ شمار نہیں کرسکتا، اور ہر بندہ اتنا بے بساط ہے کہ ان احسانات کا محض شکر ادا کرسکتا ہے، اور اس کے لئے بھی اللہ کی دی ہوئی توفیق کا محتاج ہوتا ہے، بندے کے اندر شکر گزاری کی ایک پیاس ہوتی ہے، اور جب بندہ رکوع میں جاکر اپنے عظیم رب کی تسبیح کرتا ہے تو اس کی روح کو بلا کی آسودگی نصیب ہوتی ہے۔ جن کو شکر کی توفیق نہیں ملتی ان کی روح ہمیشہ پیاس سے تڑپتی ہے۔
بندہ اس وسیع کائنات کی ہر شئے میں اپنے رب کی کاریگری دیکھتا ہے، ہر طرف اس کی صناعی کے جلوے نظر آتے ہیں، وہ اس کی صناعی کی داد دینا چاہتا ہے، اور اپنے رب کے سامنے رکوع کرکے وہ اپنے اس جذبے کی تکمیل کرلیتا ہے۔ رکوع کی حالت میں بندے کی نظر سامنے زمین پر ہوتی ہے، مگر بندے کا خیال اللہ کی عظمت کی گواہی دینے والی پوری کائنات کی سیر کررہا ہوتا ہے، اس کے سامنے کائنات میں بکھری ہوئی رب کی روشن نشانیاں بھی ہوتی ہیں اور ہر طرف کارفرما اس کی اعلی صفات بھی ہوتی ہیں۔
رکوع کی حالت میں بندے کے قدم زمین پر ایک جگہ جمے ہوتے ہیں، لیکن اس کی روح ان گنت قدوسیوں کے ساتھ بہت اعلی مقامات کی جانب پرواز کررہی ہوتی ہے، وہ مقامات جو ادراک کی حد سے پرے ہیں۔ فَالَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْأَمُونَ [فصلت:38]۔ " تو وه جو تمہارے رب کے پاس ہیں وه تو رات دن اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور کبھی نہیں اکتاتے"۔
رکوع کی حالت میں رب کے سامنے صرف سر نہیں جھکتا ہے، بلکہ پورا وجود جھک جاتا ہے، اور اس طرح صرف سربلند نہیں ہوتا بلکہ پورا وجود سربلند ہوجاتا ہے۔ اور پھر وہ کسی اور کے آگے نہیں جھکتا، کیونکہ پھر بندہ اس یقین سے سرشار ہوجاتا ہے کہ میرے رب کے سوا نہ کوئی میرا رب ہے، نہ کوئی العظیم ہے، اور نہ کوئی تسبیح کے لائق ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں کبھی یہ ذکر بھی پڑھتے تھے: اللهمَّ لكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، ولَكَ أسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي ومُخِّي وَعَظْمِي وَعَصبِي۔ "اے اللہ میں نے تیرے سامنے رکوع کیا، تیرے اوپر ایمان لایا، خود کو تیرے حوالے کیا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ میری ہڈیاں اور میری رگیں، سب تیرے سامنے جھک گئے" یہ ایمان افروز الفاظ رکوع کی حقیقی روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
بندہ اپنے رب کے سامنے جب رکوع کی حالت میں ہوتا ہے، تو اسے بڑی آسودگی حاصل ہوتی ہے، گو کہ وہ اپنے رب کو دیکھ نہیں پاتا ہے، لیکن اس کے یقین کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے، اور اس کے اطمینان کے لئے یہ احساس کافی ہوتا ہے، کہ اس کے رب نے اسے اپنے سامنے رکوع کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس احساس میں بے پناہ لذت ہوتی ہے۔
جن سعید بندوں کو رکوع کی حقیقی لذت حاصل ہوجاتی ہے، ان کے رکوع بڑے اہتمام سے اور خوب طویل ہوتے ہیں، اور ان طویل رکوعوں میں سبحان ربی العظیم کی تکرار کرتے ہوئے جسم کی حالت، زبان کی حرکت اور دل کی کیفیت تینوں سے رب عظیم کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے۔

"سب رائیں اچھی ہیں"

"سب رائیں اچھی ہیں"
محی الدین غازی
ہم مسلمانوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو نہیں پایا ہے، تاہم جذبہ اور خواہش یہی ہے کہ ہماری ہر عبادت اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق ہو، ہمارا یہ یقین بھی ہے کہ عبادت وہی قابل قبول ہوگی جو اللہ کے رسول کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہو۔ ہم نے چونکہ عہد رسالت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اس لئے ہم کسی طریقہ کو سنت ماننے کے لئے ایسے دلائل تلاش کرتے ہیں جن کی بنیاد پر کسی عمل کو سنت مانا جاسکے۔
تراویح کتنی رکعت پڑھی جائے اس سلسلے میں دو سے زیادہ رائے ہیں، تاہم حالیہ زمانے میں دو رائیں زیادہ مشہور ہیں، ایک رائے آٹھ رکعت کی ہے، اور دوسری رائے بیس رکعت کی ہے، دونوں کے ماننے والے دلائل بھی رکھتے ہیں، میں نے جب دونوں کے دلائل کا مطالعہ کیا، تو اس نتیجہ پر پہونچا کہ دونوں کے دلائل بہت مضبوط ہیں، اور کسی عمل کو سنت مان لینے کے لئے جن دلائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ دونوں کے پاس ہیں، بیس رکعت کا سنت ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں مسجد نبوی میں انصار ومہاجرین کی موجودگی میں جماعت کے ساتھ بیس رکعت تراویح پڑھی گئی اور کسی نے اعتراض نہیں کیا، اگر یہ عمل سنت سے مختلف ہوتا تو کوئی تو اعتراض کرتا۔ آٹھ رکعت کا سنت ہونا اس سے ثابت ہے کہ روایتوں کے مطابق اللہ کے رسول کا قیام لیل آٹھ رکعت کا ہوا کرتا تھا۔
تمام روایات کو دیکھتے ہوئے اس بات پر اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول قیام لیل میں خود آٹھ رکعت پڑھتے تھے، اور آپ نے صحابہ کو بیس رکعت پڑھنے کی بھی تعلیم دی تھی، چنانچہ کچھ صحابہ آٹھ پڑھتے تھے، اور کچھ صحابہ بیس پڑھتے تھے۔ اور صحابہ کے نزدیک دونوں عمل سنت کا درجہ رکھتے تھے۔
صحابہ کے زمانے میں اصل توجہ اس پر ہوتی تھی کہ ماہ رمضان کی راتوں کا زیادہ حصہ نماز پڑھتے ہوئے گزارا جائے۔ نماز میں طویل قیام کرنے والے آٹھ رکعت پڑھتے تھے، مختصر قیام کرنے والے بیس رکعت پڑھتے تھے، مزید مختصر قیام کرنے والے چھتیس رکعت بھی پڑھ لیتے تھے، سب کا ہدف ایک ہوتا تھا، کہ رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزرے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آٹھ رکعت پڑھنے والے ہوں یا بیس رکعت پڑھنے والے، تھوڑے سے وقت میں سب لوگ فارغ ہوجاتے ہیں، اور پھر اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ قیام لیل کا حق ادا ہوگیا۔ تعداد کے مسئلے سے آگے بڑھ کر قیام لیل کی اس روح کو عام کرنے کی ذمہ داری ان تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو نبی کی سنت کو عام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
تراویح کے سلسلے میں مطالعہ کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ کا ایک جملہ میری نظر سے گزرا، اور میں نے نگینہ حکمت سمجھ کر اسے اپنے دل میں محفوظ کرلیا۔ علامہ نے تراویح کے سلسلے میں تین رایوں کا ذکر کرنے کے بعد کہا: الصَّوَابُ أَنَّ ذَلِكَ جَمِيعَهُ حَسَنٌ (صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب رائیں اچھی ہیں) میں سمجھتا ہوں کہ علامہ ابن تیمیہ کا یہ جملہ اتحاد امت کی تدبیری کوششوں کے لئے نقش راہ بن سکتا ہے، بہت سارے اختلافی مسائل ایسے ہیں جن میں ہر رائے کے حق میں مضبوط دلائل ہوتے ہیں، لیکن بعض لوگوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنی رائے کے دلائل کو مضبوط اور دیگر تمام رایوں کے دلائل کو کمزور ثابت کریں، اس سے کسی ایک رائے پر اتفاق تو دور کی بات ہے، آپس کے اختلافات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ سنت پر عمل کرنے کا جذبہ بلاشبہ لائق ستائش ہے، لیکن یہ ثابت کرنے کا جذبہ قابل تعریف نہیں ہے کہ سنت پر عمل پیرا صرف میں ہوں باقی سب سنت سے دور ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر کچھ مسائل میں تمام رایوں کے ماننے والے اپنے دلائل کے ساتھ دوسروں کے دلائل کی مضبوطی کا بهی اعتراف کرلیں، اور سب مل کر کہیں کہ "سب رائیں اچھی ہیں" تو اتحاد واتفاق کی ایک اچھی فضا تیار ہوسکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ "سب رائیں اچھی ہیں" کہنا ہر مسئلے میں ممکن نہیں ہے، بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں رایوں میں تعارض ہوتا ہے اور کوئی ایک ہی رائے درست ہوسکتی ہے، لیکن ایسے بہت سارے مسائل پائے جاتے ہیں جن میں آسانی کے ساتھ ساری رایوں کو درست کہا جاسکتا ہے، اس کی مثال تراویح کا معاملہ ہے، کہ آٹھ پڑھنے اور بیس پڑھنے میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، بڑی آسانی سے ایک ہی مسجد میں کچھ لوگ آٹھ اور کچھ لوگ بیس رکعت پڑھ سکتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے عمل کو سنت کے مطابق سمجھ سکتے ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کی نمازوں کا احترام کرسکتے ہیں، صرف نقطہ نظر کو تبدیل کرنے اور دلوں کو کشادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
امت میں اتحاد واتفاق کی فضا ہموار کرنے کی ایک تدبیری کوشش یہ ہوسکتی ہے کہ ایسے تمام مسائل کو جمع کیا جائے جن میں ہر رائے کی پشت پر مضبوط دلائل ہوں، اور ان رایوں میں باہم تعارض بھی نہ ہو، اور ہر سال کم از کم کسی ایک مسئلے کے سلسلے میں سب مل کر اعلان کریں کہ اس مسئلے میں "سب رائیں اچھی ہیں"۔ بلاشبہ اتحاد امت کی اس تدبیری کوشش میں علماء، دینی جماعتیں اور دینی مدارس زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔

قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنا لازم کرلیں

قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنا لازم کرلیں
محی الدین غازی
ایک سفر میں مجھے ایک تعلیم یافتہ صاحب کی رفاقت حاصل ہوئی، انہوں نے دینی نوعیت کے مختلف سوالات کئے، سوالوں کے جواب دیتے ہوئے میں نے ان سے کہا آپ قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھیں آپ کو بہت سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے، اس پر وہ مجھ سے بحث کرنے لگے کہ قرآن مجید عام لوگوں کے سمجھنے کی کتاب نہیں ہے، صرف بڑے علماء اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اس بحث کو ایک طرف رکھیں، یہ بحث نہ دنیا میں آپ کے کام آئے گی اور نہ آخرت میں، میری التجا بس اتنی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے ایک بار ضرور پورا قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے موت آجائے اور آپ یہ جانے بغیر دنیا سے رخصت ہوجائیں کہ اللہ پاک نے آپ کے لئے جو کتاب بھیجی تھی اس میں کیا تھا۔
درحقیقت یہ جانے بنا کہ قرآن مجید میں کیا لکھا ہے اس دنیا سے چلے جانا بہت بڑے خطرے کا سودا(highly risky) ہے۔
جو لوگ عربی نہیں جانتے ہیں، ان کو اپنے اوپر اسے ضروری قرار دے دینا چاہئے کہ وہ قرآن مجید پڑھیں، اور جب بھی پڑھیں ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔
ترجمے کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک آیت پڑھیں اور اس کے ساتھ ہی اس کا ترجمہ پڑھیں، پھر اگلی آیت اس کے ترجمہ کے ساتھ پڑھیں۔ آیت بہ آیت ترجمے کو اپنا معمول بنالیا جائے تو بہت سارے فائدے حاصل ہوں گے۔
ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اس طرح بار بار قرآن مجید پڑھنے کے نتیجے میں آیتیں اپنے ترجمے کے ساتھ ذہن نشین ہوتی جائیں گی۔ اور جب آپ قرآن مجید کی کوئی آیت سنیں گے تو اس کا مفہوم اسی وقت ذہن میں پہونچے گا۔
دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ قرآنی عربی آنے لگے گی، الفاظ کا مطلب یاد ہونے لگے گا، اور کچھ عرصے کے بعد آپ اپنے آپ کو قرآنی عبارت سے قریب محسوس کرنے لگیں گے۔
آیت بہ آیت ترجمہ پڑھنے کا ایک ثمرہ یہ ہوگا کہ نماز میں امام کی تلاوت سن کر آیتوں کا مفہوم آپ کے ذہن میں پہونچنے لگے گا، اور آپ کو نماز میں پہلے سے بہت زیادہ لطف آنے لگے گا۔
اور سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوگا کہ قرآن مجید کا پیغام آپ کے دل ودماغ تک پہونچ جائے گا۔
میرا اندازہ ہے کہ اگر کوئی شخص سال میں تین مرتبہ پورا قرآن مجید آیت بہ آیت ترجمہ کے ساتھ ختم کرلے، تو تین سال میں اس کو اچھی خاصی قرآنی عربی آجائے گی۔
واضح رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے تابعین نے کبھی قرآن مجید کی عبارت کو بنا سمجھے نہیں پڑھا، اس لئے اصولی بات یہی ہے کہ ہر آیت کو سمجھ کر پڑھا جائے، اس کا سب سے افضل طریقہ تو یہ ہے کہ اتنی عربی سیکھ لی جائے جو قرآن مجید سمجھنے کے لئے کافی ہو، ہمت کرنے والوں کے لئے یہ بھی کوئی بڑا کام نہیں ہے، تاہم جب تک عربی نہیں آئے، ترجمہ کی مدد لینا اپنے لئے ضروری قرار دینا چاہئے۔
اب تک قرآن مجید کے ترجمہ کو رواج دینے کے سلسلے میں جو کوششیں ہوئی ہیں، وہ قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کو ایک جائز یا مستحب کام قرار دے کر ہوئی ہیں، لیکن بگاڑ کے اسباب جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اصلاح کی انسانی کوششیں جس طرح بے بسی کا شکار ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ عربی نہیں جاننے والوں کے لئے ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے کو واجب قرار دینے پر اہل علم غور کریں۔ ذاتی طور پر میں اسی نتیجے پر پہونچا ہوں کہ عربی نہیں جاننے والوں کے لئے ترجمہ کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا واجب ہے، اور مجھے اپنی اس رائے پر پورا اطمینان ہے۔

ڈیڑھ چال کے گھوڑے

ڈیڑھ چال کے گھوڑے
محی الین غازی
 شطرنج کی بساط پر گھوڑے کی اہمیت پیادوں سے زیادہ سمجھی جاتی ہے، پیادے ایک خانے کی چال چلتے ہیں، جبکہ گھوڑا ڈھائی خانے کی چال چل سکتا ہے، اور سامنے کوئی آجائے تو اس کے اوپر سے چھلانگ بھی لگاسکتا ہے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اگر شطرنج کی کسی بساط پر گھوڑا ڈھائی خانے کی چال کی بجائے ڈیڑھ خانے کی چال چلنے لگے تو کیا ہوگا؟ جواب ملا کہ صرف اتنا ہوگا کہ گھوڑا بھی پیادہ جیسا قرار پائے گا۔
میرا خیال ہے کہ مسلم عوام قیادت کے سلسلے میں قدرے حقیقت پسند ہیں، وہ اپنی قیادت پر بہت زیادہ اونچی توقعات کا بوجھ نہیں ڈالتے، وہ ان کو مہدی اور مجدد کے روپ میں بھی نہیں دیکھتے، وہ تو جب چاہتے ہیں تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ قائدین ان کی طرح کوتاہ بین نہیں ہوں، بلکہ ان سے کچھ زیادہ دور تک دیکھیں، ان کی طرح سست رفتار نہیں ہوں، بلکہ ان سے کچھ زیادہ تیز چلیں۔ خلاصہ یہ کہ اگر عوام پیادہ کی طرح ایک خانے کی چال چلتے ہیں، تو اپنے قائدین کو گھوڑے کی طرح ڈھائی خانے کی چال چلنے والا دیکھنا چاہتے ہیں، اور ڈیڑھ خانے کی چال چلنے والوں کو دیکھ کر ان کو مایوسی ہوتی ہے۔
عوام کو شکایت اور جھنجھلاہٹ ہوتی ہے، جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اور قائدین کے درمیان فرق صرف اتنا ہے کہ قائدین زیادہ اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہیں، اور زیادہ روانی کے ساتھ تقریر کرتے ہیں۔ باقی اسٹیج پر کھڑے ہوکر وہ بھی وہیں تک دیکھتے ہیں جہاں تک پنڈال میں بیٹھے ہوئے سامعین دیکھتے ہیں، فیصلے کرنے میں وہ بھی عام لوگوں کی طرح ہچکچاہٹ اور تردد کا شکار رہتے ہیں، اقدامات کرنے میں وہ بھی دوسروں کی طرح خود کو مجبور سمجھتے ہیں، ذاتی مصلحتوں اور رکاوٹوں کو پھلانگ جانے کے معاملے میں وہ بھی بے بس نظر آتے ہیں، حال اور مستقبل سے نظریں چراکر وہ بھی ماضی کے تذکروں میں عافیت تلاش کرتے ہیں۔
قائدین کی نگاہ کمزور ہوتی ہے تو وہ منزل نہیں دیکھ پاتے، اور چونکہ سامنے سب دھندلا نظر آتا ہے اس لئے آگے قدم بھی نہیں بڑھا پاتے، ان کا ہر قدم جھجھکتے ہوئے اٹھتا ہے، اور جہاں سے اٹھتا ہے وہیں لوٹ آتا ہے، برسہا برس گزر جاتے ہیں اور ان کی زیر قیادت تنظیمیں اور ادارے کوئی پیش رفت نہیں کرپاتے۔ بلکہ بسا اوقات تو اپنی معنویت بھی کھودیتے ہیں، کہ لوگوں کو پوچھنا پڑتا ہے کہ فلاں ادارہ یا تنظیم کیوں ہے؟
کمزور نگاہ والے قائدین کو اپنا متبادل کبھی نظر نہیں آتا ہے، بلکہ اگر عوام کو کوئی متبادل نظر آ بھی جاتا ہے تب بھی وہ ان کو نظر نہیں آتا ہے، اور وہ اسے عوام کی نگاہوں کا دھوکہ قرار دیتے ہیں۔ قائدین کی نگاہ اپنا متبادل دیکھنے کے معاملے میں کمزور اس وقت بھی ہوجاتی ہے جب ان کے دل تنگ ہوتے ہیں، اور وہ کسی دوسرے کے خیال کو اپنے دل میں بٹھانے کی جگہ نہیں پاتے ہیں، ان کے دل میں صرف ایک ہی تصویر ہوتی ہے، جسے وہ تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ ان کی اپنی ہوتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل مسلم علماء کی ایک عالمی تنظیم کے انتخابی سیشن میں حاضر تھا، ممبران کی تجویز کی بنا پر ناموں کی ایک فہرست بنی تھی، اس فہرست میں سے ووٹنگ کے ذریعہ مجلس شوری کے ارکان کو منتخب کرنا تھا۔ طے پایا کہ فہرست میں موجود لوگ باری باری اسٹیج پر سے گزریں تاکہ تمام لوگ ان کو نام کے ساتھ دیکھ لیں، اور اس کے بعد ووٹنگ ہو۔ ایک صاحب جو ایک ملک کی پارلیمنٹ کے ممبر بھی تھے، اپنی باری پر اسٹیج پر آئے اور انہوں نے کہا گو کہ آپ لوگوں نے میرا نام پیش کیا ہے، لیکن میری نظر میں اس مجلس شوری کے لئے ایک فرد مجھ سے بھی زیادہ موزوں ہے، لیکن آپ حضرات کی نگاہ اس تک نہیں جاسکی ہے، میں گذارش کرتا ہوں کہ فہرست میں سے میرا نام نکال کر ان صاحب کا نام ڈال دیا جائے، اور پھر انہوں نے دلائل سے اپنی بات کو اتنا مضبوط کیا کہ لوگوں نے ان کی تجویز کو مان لیا۔ دیکھنے والے نگاہ کی اس تیزی اور دل کی اس کشادگی پر حیران رہ گئے۔
مسلم عوام مزاجا عقیدت پسند واقع ہوئے ہیں، وہ اپنی قیادت پر تنقید کرنا تو درکنار سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اس تحریر کا مقصد بھی تنقید نہیں ہے، بلکہ ہر سطح کے اور ہر مکتب فکر کے قائدین سے التجا کرنا ہے کہ وہ اپنا قد بلند کرنے کی فکر کریں، کہ عوام کے عقیدت پسندانہ مزاج کے سہارے موجودہ زمانے میں زیادہ مدت تک چلنا ممکن نہیں ہے، تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں بار بار نگاہیں قیادت کی طرف اٹھتی ہیں اور نامراد واپس آتی ہیں، دن بدن حوصلہ بخش، حال فہم اور مستقبل بین قیادت کی ضرورت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ادھر مختلف جہتوں سے ملی تنظیموں اور اداروں کی قیادت پر تنقید کا آغاز ہوا ہے، جو قائدین کے لئے اچھی اور اطمینان بخش خبر نہیں ہے۔ اپنا دفاع کرنے کی سب سے اچھی صورت یہ ہے کہ خود کو عوام کی معقول توقعات اور منصب کے حقیقی تقاضوں کے مطابق بنانے کی فکر کی جائے۔

مذہبی تشدد ایک خطرناک بیماری

 تشدد کا پھل کڑوا ہوتا ہے، خواہ کیسا ہی تشدد ہو، بسا اوقات تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے والے خود تشدد میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ تشدد کی بہت ساری قسمیں ہیں ،لیکن مذہبی تشدد اس کی ایک زیادہ خطرناک قسم ہے۔ کیونکہ مذہبی تشدد انسانوں کے مسیحاؤں کو انسانوں کا قاتل بنادیتا ہے۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ مذہبی تشدد پر تنقید کرتے ہوئے مذہب پر کیچڑ اچھالنے لگتے ہیں، حالانکہ مذہب کی سب سے معتبر اور مقبول کتاب قرآن مجید میں مذہبی غلو اور مذہبی تشدد کی جس طرح بھرپور مذمت کی گئی ہے، شاید ہی کسی اور کتاب میں کی گئی ہو۔ قرآن مجید تو (لست علیھم بمصیطر) کا طاقت ور اصول دے کر مذہبی تشدد کے سارے راستے بند کردیتا ہے۔ یہ اصول یاد رہے تو مذہبی اقدار کا بول بالا ہوتا ہے، اور یہ سبق فراموش کردیا جائے تو مذہبی تشدد کا آغاز ہوجاتا ہے۔
مذہب اور مذہبی تشدد میں تاریکی اور اجالے جیسا فرق ہے، مذہب انسان کو سماج کے لئے باعث رحمت وسعادت بناتا ہے، اور مذہبی تشدد سے انسان سماج کے لئے ایک خطرناک مسئلہ اور مشکل مرض بن جاتا ہے۔
جب کوئی مذہبی تشدد میں گرفتار ہوجاتا ہے، تو وہ مذہب کے نام پر مذہب کی قدروں کو پامال کرنے لگتا ہے، اور مذہب نے جو حدود طے کئے ہیں ان کو توڑتا چلا جاتا ہے، وہ نہ مسجدوں کی حرمت کا خیال کرتا ہے اور نہ اہل علم کی بے حرمتی کرنے میں تامل کرتا ہے۔
کفر کے فتوے لگانا مذہبی تشدد کی ایک نمایاں علامت ہے، مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے، لوگوں نے مذہبی تشدد کا شکار ہوکر بڑے بڑے صحابہ پر کفر کے فتوے لگائے یہاں تک کہ حضرت علی کی ذات گرامی کو بھی نہیں چھوڑا۔
انسانوں کا بے دریغ خون بہانا بھی مذہبی تشدد کی علامت ہے، مذہبی تشدد کے حامل لوگ جب خون بہانے پر آتے ہیں تو ان کی درندگی کا نشانہ اللہ کے نیک بندے زیادہ بنتے ہیں، ایسے لوگوں نے مذہبی تشدد کے نشہ میں حضرت خباب بن ارت کو قتل کیا اور ان کی حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کردیا، امام احمد بن حنبل کو تعذیب کا نشانہ بنایا، تو امام بخاری کو اذیتیں دیں۔
مذہب کے حاملین دعوت وموعظت پر یقین رکھتے ہیں، اس راہ میں آزمائشوں پر صبر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، اور قتال کے مرحلے میں اس وقت تک نہیں داخل ہوتے جب تک ناگزیر نہ ہوجائے۔
جب کہ مذہبی تشدد کا آغاز ہی تکفیر اور قتال سے ہوتا ہے، گفتگو اور افہام وتفہیم کی یہاں سرے سے گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہر اس انسان کو قابل گردن زدنی سمجھتے ہیں جو ان کی بات سے اتفاق نہیں رکھتا ہو۔
مذہبی تشدد کے بھی بہت سارے مراتب ہیں، مسلک ومشرب کو جو لوگ مذہب کا درجہ دے کر مسلکی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ بھی دراصل ایک طرح کے مذہبی تشدد میں گرفتار ہوتے ہیں۔
مذہبی تشدد اور آزادی رائے میں شدید قسم کا بیر ہوتا ہے، جہاں مذہبی تشدد کا بول بالا ہوتا ہے وہاں فکرو خیال کی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔ مذہبی تشدد کا نتیجہ ہی ہے کہ جب کوئی صاحب علم عام رائے سے ہٹ کر کوئی نیا خیال پیش کرتا ہے، تو اس کے خیال پر گفتگو کرنے کی بجائے اس کی نیت پر حملہ شروع کردیا جاتا ہے۔
منکر قرآن، منکر حدیث اور منکر اجماع جیسی بہت ساری اصطلاحات کا جنم بھی مذہبی تشدد کے بطن سے ہوا ہے، مخالف کو دلائل کی بجائے اصطلاحات سے کچلنے کے لئے ان کا استعمال عام ہے۔
مذہب کی کارفرمائی ہوتی ہے تو مصلحین اور مجددین پیدا ہوتے ہیں جو پوری امت کی اصلاح وتربیت اور ساری انسانیت کی رہنمائی کی فکر کرتے ہیں، مذہبی تشدد کے نتیجہ میں فرقے بنتے ہیں اور فرقوں کی حفاظت کرنے والے پیدا ہوتے ہیں، جو اپنے فرقے کو اہل سنت اور دوسرے سب فرقوں کو گمراہ قرار دیتے ہیں۔
مذہبی تشدد کا نتیجہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ لوگ عقیدہ اور خیال میں فرق کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ ایسے خیالات جو محض خیالات ہوتے ہیں، اور جن کی پشت پر بسا اوقات کوئی کمزور سی دلیل ہوتی ہے، اسے بھی عقیدہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے، اور اس پر گفتگو کو قابل تعزیر جرم قرار دے دیا جاتا ہے۔
مذہبی تشدد کے نتیجہ میں لوگ یہ بھی فراموش کردیتے ہیں کہ مذہب سے متعلق کچھ مسائل میں اختلاف رائے کی گنجائش بھی ہوتی ہے، کچھ مسائل میں اختلاف کرنے سے آدمی دین سے خارج نہیں ہوتا ہے خواہ اس کی دلیل کمزور اور آپ کی مضبوط کیوں نہ ہو، بعض چیزیں آپ کی نظر میں منکر ہوں تب بھی ان پر دوسروں کی نکیر کرنے سے پہلے نکیر کرنے کے ضابطوں کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مذہبی تشدد سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ماؤف کردیتا ہے، ایسے لوگوں کے سامنے دلائل بے وزن اور اہل علم بے وقعت ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید غوروفکر کرنے کی دعوت اس لئے بھی دیتا ہے کہ مذہبی تشدد سے باہر آنے کا یہی ایک راستہ ہے۔

شب قدر۔۔۔ ترقیوں کی رات کیسے بنے؟

(ماہ رمضان سے پہلے پڑھنے کے لئے)
شب قدر کی فضیلت قرآن مجید میں جن لفظوں اور اسلوب میں بیان کی گئی ہے، اس سے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ رات ہمارے لئے بہت اہم ہے اور اس کی اہمیت ہمارے تصور سے کہیں زیادہ ہے، ایک رات کا ایک ہزار مہینوں سے افضل ہونا اس رات کو بے حد پرکشش اور اس کی فضیلت کو انسانوں کے تخیل سے فزوں تر بنا دیتا ہے۔ اس پوری رات میں سارے اہم فیصلے تقسیم ہوتے ہیں، اور یہ فیصلے بندوں سے متعلق ہر چیز کے سلسلے میں ہوتے ہیں، وہ مادی اسباب ہوں یا روحانی مراتب ہوں۔
شب قدر میں رب کریم کی طرف سے ترقی کے پروانے بھی جاری ہوتے ہیں، یہ ان بندوں کو ملتے ہیں جن سے رب راضی ہو۔ اس دنیا میں اصل ترقی یہ ہے کہ بندہ اصحاب الشمال سے نکل کر اصحاب الیمین میں اور اس سے آگے بڑھ کر سابقون اور مقربون کے زمرے میں شامل ہوجائے۔ رب کو راضی کرنے کے لئے لوگ شب قدر کو تلاش کرتے ہیں، وہ ہر اس رات کو پالینا چاہتے ہیں جس کے بارے میں انہیں قدر والی رات ہونے کی امید ہوتی ہے۔ ان راتوں میں وہ خصوصی عبادت اور بہت زیادہ دعائیں کرتے ہیں۔ بعض اعلی ہمت والے تو ماہ رمضان کی تمام راتوں میں شب قدر کو تلاش کرتے ہیں۔
دیکھا گیا ہے کہ لوگ شب قدر کے لئے جو بھی کرتے ہیں وہ شب قدر کے اندر ہی کرتے ہیں، شب قدر سے پہلے شب قدر کے لئے کچھ کرنے کا تصور زیادہ عام نہیں ہے، شب قدر کی برکتوں کو حاصل کرنے کے لئے اس رات میں عبادت اور دعا کی یقینا بہت اہمیت ہے، لیکن بہت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس رات سے پہلے بھی اس رات کی بھرپور تیاری کی جائے، تیاری کی ایک بہترین صورت یہ ہے کہ شب قدر سے پہلے اپنی شخصیت میں کچھ ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جو رب کو راضی کرنے والی ہوں، اور ہماری ترقی کے حق میں سفارشی بن سکتی ہوں۔
اپنی خراب کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہ کرکے صرف پروموشن کی امید رکھنا اور اس کے لئے درخواست پر درخواست دینا دانشمندانہ رویہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔ شب قدر کو ترقی (promotion) کی رات قرار دے کر اور اس سے پہلے ہی اپنی زندگی کو بدلنے کی بہت ساری کوششیں اور فیصلے کرلینے کے بعد جب بندہ شب قدر کو تلاش کرکے اس میں دعائیں مانگے، تو قبولیت کے امکانات یقینا بڑھ جاتے ہوں گے۔
عمل کو دعا کا وسیلہ بنانے کے سلسلے میں میرے علم کی حد تک سب کا اتفاق ہے، تو کیوں نہ ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی یہ بھی طے کرلیا جائے کہ اس بار قدر والی رات میں دعاؤں کے ساتھ اعمال کا کون سا وسیلہ شامل کرنا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ قدر کی رات ہو، فجر تک سلام ہی سلام ہو، زمین پر سجدہ ریز جبینیں اور آنسؤوں میں ڈوبی ہوئی دعائیں ہوں، اور پھر خاص اس رات کے لئے بہترین اعمال کا وسیلہ بھی بھیجا جاچکا ہو، تو ایسے بندے کی خوش نصیبی کا کیا کہنا۔
اگر شب قدر کے لئے بہترین اعمال کا خصوصی وسیلہ آگے بھیج دیا، تو اللہ کی بے پایاں رحمت سے یہ امید بھی رکھ سکتے ہیں کہ کسی مجبوری کی وجہ سے وہ رات نہیں مل سکے، یا اس رات کے شایان شان عبادت اور دعائیں کرنے کا موقع نہیں مل سکے، تو اعمال کا خصوصی وسیلہ قائم مقامی کردے۔
شب قدر کی بے انتہا فضیلت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس کو پالینے کی طلب میں سال بھر تیاری کی جائے، اور سال بھر کے جرأت مندانہ فیصلوں اور محنتوں کے ذریعہ اپنی شخصیت کو شب قدر کی ترقیوں کا اہل بنالیا جائے، لوگوں کے حقوق ادا کردئے جائیں، حرام کاریوں سے اور ناجائز پیشوں سے دامن چھڑالیا جائے، غفلتوں کی سیلیں توڑ دی جائیں، نیکیوں کے مینار بلند کردئے جائیں، جہد وعمل کی مثالیں قائم کردی جائیں، اس امید پر کہ شب قدر میں ترقی کا فیصلہ ہو اور اصحاب الیمین کے زمرے میں بلکہ اس سے بھی آگے سابقون اور مقربون کے زمرے میں شامل کردیا جائے۔
ہر سال آنے والی شب قدر کو ہماری زندگی میں ایک اہم سنگ میل بن جانا چاہئے، بہت سارے ناپسندیدہ امور ہوتے ہیں جن کو ہم چھوڑنے میں ٹال مٹول کرتے ہیں، اور بہت سارے پسندیدہ امور ہوتے ہیں جن کو ہم آئندہ کے بستے میں ڈالتے رہتے ہیں اور یوں زندگی کے بہت سارے ماہ وسال غفلت وتردد میں گزر جاتے ہیں۔ اگر ہم قدر والی رات کو زندگی کا اہم سنگ میل اور حتمی ڈیڈ لائن قرار دے کر اس سے پہلے ہی ٹال مٹول کے سارے سلسلوں کو خوب صورت اختتام دے دیں تو قوی امید ہے کہ زندگی حسین وجمیل اور مفید وبابرکت ہوجائے۔ اور ہر سال قدر والی رات میں رب کریم کی طرف سے بہترین ترقی کا بے بہا پروانہ ملا کرے۔

اپنی معلومات تازہ کرتے رہیں

ٹرین سے سفر کرنے کا موقعہ کافی زیادہ ملا ہے، اس لئے یہ خوش فہمی ہوگئی کہ ریلوے سے متعلق تمام ضروری باتوں کا علم حاصل ہوگیا ہے، لیکن واقعات نے کئی مرتبہ اس خوش فہمی کو دور کیا۔
اس ماہ کے آغاز میں مجھے مع اہل عیال گورکھپور (یوپی) سے شورنور (کیرلا) جانا تھا، راپتی ساگر ایکسپریس سے ریزرویشن تھا، اور ایک فارم کے اندر چھ افراد میں صرف تین کا ٹکٹ کنفرم ہوسکا تھا، باقی تین انتظار کی فہرست میں رہ گئے تھے۔ میری معلومات یہ تھیں کہ اگر آن لائن ٹکٹ کنفرم نہ ہوسکے تو ٹکٹ از خود کینسل ہوجاتا ہے، اور ٹکٹ کی قیمت واپس اس اکاؤنٹ میں پہونچ جاتی ہے جس سے وہ ادا ہوئی تھی۔ چنانچہ میں اسٹیشن پر وقت سے کافی پہلے پہونچا، لمبی لائن میں دیر تک کھڑے ہو کر تین عدد جنرل ٹکٹ خریدے تاکہ ٹرین میں داخل ہونے کا جواز مل سکے، ٹی ٹی آیا، میں نے اس کو تینوں جنرل ٹکٹ دکھائے کہ وہ ان پر اضافی رقم لگا کر رسید بنادے۔ لیکن اس نے اضافی رقم لے کر رسید بنانے کی بجائے میری معلومات میں اضافہ کردیا۔ اور وہ یہ کہ اگر ایک فارم کے اندر کچھ افراد کے ٹکٹ کنفرم ہوجاتے ہیں تو باقی کے ٹکٹ کینسل نہیں ہوتے ہیں، البتہ اگر کوئی کنفرم نہیں ہوا ہو تو سارے ٹکٹ کینسل ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس بات کی تو خوشی ہوئی کہ تین ٹکٹوں پر اضافی رقم کی مار سے بچ گئے تاہم میں نے جو تین ٹکٹ لمبی لائن میں لگ کر خریدے تھے ان کے ضائع ہوجانے کا احساس بھی ہوا۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ میں نے نئی صورت حال کو نیا نہیں سمجھا اور پرانی معلومات پر انحصار کرلیا۔
اس سے زیادہ تلخ صورت حال سامنے آئی جب تقریبا دس سال قبل میں بچوں کے ساتھ کالی کٹ سے حیدرآباد جا رہا تھا، اور محض پرانی معلومات پر بھروسہ کرلینے کی وجہ سے اچھا خاصا جرمانہ دینا پڑا، اہل خانہ کے سامنے سبکی اس پر مزید۔
نئی اور معمول سے مختلف صورت حال ہمیشہ تقاضا کرتی ہے کہ اپنی معلومات کو بھی نیا اور تازہ کیا جائے، لیکن بہت سارے لوگ صورت حال کے مختلف ہوجانے یا بدل جانے کا ادراک نہیں کرپاتے، اور بہت سارے لوگ یہ ادراک تو کرلیتے ہیں، لیکن بدلی ہوئی صورت حال کے مطابق اپنی معلومات تازہ کرنے کی ضرورت کا ادراک نہیں کرپاتے۔ نئی صورت حال کی مار سے خود کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے کہ خود کو اپ ٹو ڈیٹ رکھا جائے۔
کچھ لوگوں کے اندر اپنی معلومات تازہ کرتے رہنے کا شوق ہوتا ہے، یہ بہت اچھا شوق ہے، اس کو پھولنے پھلنے کا خوب موقعہ دینا چاہئے، ساتھ ہی انسانوں سے محبت کا تقاضا ہے کہ تازہ بہ تازہ معلومات میں دوسروں کو بھی شریک کیا جائے۔ خدمت خلق میں نمایاں خدمت انجام دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ شوقین افراد عملی زندگی سے متعلق اپنی معلومات کو اتنا زیادہ وسیع اور اپ ٹو ڈیٹ رکھیں، کہ وہ اپنی بستی والوں کے لئے مرجع بن جائیں۔ بسا اوقات ایک پریشان شخص کی بہترین خدمت یہ ہوتی ہے کہ اسے مناسب معلومات فراہم کردی جائیں۔
بعض لوگوں کے اندر معلومات پہونچانے کا جذبہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ انکوائری کا انتظار نہیں کرتے، اور سامنے والے کی حالت کا اندازہ ہوتے ہی تازہ اور مفید معلومات کا تحفہ پیش کردیتے ہیں۔ یہ خدمت کا اعلی معیار ہے۔
ہماری مجالس جو اکثر لغو اور غیر مفید باتوں پرمشتمل ہوتی ہیں، اگر ان کا ایک حصہ مفید عملی معلومات کے تبادلے کے لئے مختص ہوجائے تو ہماری عام معلوماتی استعداد بہت بہتر ہوسکتی ہے، اور اس طرح ہم اپنے اور دوسروں کے لئے زیادہ مفید ہوسکتے ہیں۔
کچھ لوگ دوسروں سے دریافت کرنے میں تکلف محسوس کرتے ہیں، یہ تکلف اکثر شدید تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ سب کی طرح میری زندگی میں بھی بہت سارے مشکل مرحلے آئے اور میں ذاتی طور سے ان سب محسنوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے کبھی پوچھے بنا اور کبھی میرے پوچھنے پر بیش قیمت معلومات سے نوازا، اور میری بہت ساری مشکلات کو آسان کردینے میں مدد کی، بلاشبہ دوسروں کی معلومات سے استفادہ میرے لئے آسان یوں ہوا کہ میں نے پوچھنے میں کبھی تردد نہیں کیا، اور بتانے والوں نے بتانے میں کوتاہی نہیں کی۔
نئی صورت حال کا ادراک کرنا، اور اس کے لحاظ سے اپنی معلومات کو تازہ کرلینا افراد کے لئے ضروری ہے اور اس سے زیادہ اجتماعی اداروں کے لئے ضروری ہے، بہت سارے اداروں کی دن بدن بگڑتی ہوئی کارکردگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صورت حال ایک بار نہیں کئی بار بدل چکی ہوتی ہے، نئی صورت حال نئی معلومات پر مبنی نئے طرز فکر اور نئے طریقہ کار کا تقاضا کررہی ہوتی ہے، اور وہ پرانی معلومات کو حرف مقدس کی طرح سینے سے لگائے رہتے ہیں۔