برائی سے ضرور روکو، مگر اختلاف نہ بڑھاؤ

برائی سے ضرور روکو، مگر اختلاف نہ بڑھاؤ
محی الدین غازی
مرحوم شیخ بن باز ایک جگہ بڑی درد مندی کے ساتھ لکھتے ہیں: ’’مجھے خبر ملی ہے کہ افریقہ اور دوسرے مقامات کے بہت سے مسلمانوں میں اس بات کو لے کر آپس میں کافی دشمنی اور دوری پیدا ہوگئی ہے کہ نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ باندھے جائیں، یا چھوڑ دئے جائیں، بلاشبہ یہ خود ایک برائی ہے جس کا ارتکاب انہیں نہیں کرنا چاہئے‘‘۔
امت کے اختلافات میں شدت آجاتی ہے جب اختلافی مسائل میں ایک دوسرے پر سختی کے ساتھ نکیر ہونے لگتی ہے۔ اور اگر اختلافی مسائل میں ایک دوسرے پر نکیر نہ ہو، تو اختلافی مسائل کے ساتھ بھی سب کی زندگی بڑے اطمینان کے ساتھ گزرتی رہتی ہے، اور ان سے کسی کو الجھن یا پریشانی محسوس نہیں ہوتی ہے۔
اسلامی امت کے عظیم اماموں نے اس مسئلے کی نزاکت کو بہت پہلے محسوس کرلیا تھا، چنانچہ انہوں نے منکر کے انکار کی شرطیں طے کرتے ہوئے، اس بات پر زور دیا اور یہ ضابطہ طے کیا کہ اختلافی مسائل میں ایک دوسرے پر نکیر نہیں ہونی چاہئے۔
امام سفیان ثوری سے منقول ہے: ’’جب تم دیکھو کہ آدمی ایک کام کررہا ہے، اور اس کام کے صحیح اور غلط ہونے میں اختلاف ہے، اور تمہاری رائے میں وہ کام غلط ہے، تو تم اسے مت روکو‘‘۔ (حلیۃ الأولیاء)
امام نووی لکھتے ہیں: ’’علماء کا طریقہ یہ رہا ہے کہ جس چیز کے منکر ہونے پر اجماع ہوتا ہے، اس پر وہ نکیر کرتے ہیں، اور جس کے سلسلے میں اختلاف ہو اس میں وہ نکیر کے قائل نہیں ہیں‘‘۔
امام غزالی لکھتے ہیں: ’’ضروری ہے کہ جس امر پر نکیر کی جائے اس کا منکر ہونا اجتہاد کے بغیر معلوم ہو، غرض اجتہادی مسائل میں نکیر نہیں کی جائے گی‘‘۔
مالکی فقہاء نے اپنی کتابوں میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے ضابطوں پر بڑے اہتمام سے گفتگو کی ہے، وہ یہ ضابطہ خصوصیت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ منکر کو مٹانے کی کوشش اس وقت ہونی چاہئے جب کہ اس کے حرام ہونے پر اجماع ہو، یا اس کے حرام ہونے کے مقابلے میں حرام نہ ہونے کی دلیل بہت کمزور ہو۔
امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کو اس عام رائے سے قدرے اختلاف ہے، ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر کوئی عمل سنت یا اجماع کے خلاف ہو تو اس پر نکیر کی جائے گی، اور اگر ایسا نہیں ہے، اور اس مسئلے میں کوئی سنت یا اجماع نہیں ملتا ہے اور اجتہاد کی گنجائش موجود ہے تو نکیر نہیں کی جائے گی۔ غرض اتنا تو یہ بھی مانتے ہیں کہ ہر اختلافی مسئلہ کو معروف اور منکر کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔
اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی اجتہادی معاملہ ہے، اس میں سنت کی واضح رہنمائی نہیں ہے، اور اس مسئلہ میں امت کے اہل علم میں اختلاف رہا ہے، اور اس مسئلے میں آپ ایک عمل کو درست سمجھتے ہیں، اور دوسرے عمل کو درست نہیں سمجھتے ہیں، تو آپ جس عمل کو درست سمجھتے ہیں، اسے شوق سے اختیار کریں، مگر دوسرا شخص اگر دوسرے عمل کو اختیار کرتا ہے، تو اس پر نکیر مت کریں۔
سلف صالحین کی طرف سے دی گئی یہ رہنمائی امت کے اختلافات کی شدت کو کم کرنے میں بہت معاون ہوسکتی ہے۔
اس رہنمائی کے بہت بڑے فائدے ہیں، ایک فائدہ یہ ہے کہ اگر تمام لوگ ایسے کاموں سے روکنے پر اپنی توجہ اور کوشش مرکوز کردیں گے جن کے منکر ہونے میں آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، تو منکرات کے خلاف کوششیں طاقت ور اور تیز تر ہوجائیں گی، امر بالعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو امت بہت خوبی کے ساتھ انجام دے سکے گی۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح چھوٹے منکرات کے مقابلے میں بڑے منکرات کے خلاف کوششیں بڑھ جائیں گی۔ کیونکہ جن کاموں کے منکر ہونے پر اتفاق ہے وہ عام طور سے سب کے نزدیک بڑے منکرات ہیں، اور جن کاموں کے منکر ہونے پر اختلاف ہے، وہ جن کے نزدیک منکر ہوتے ہیں، ان کے نزدیک بھی زیادہ تر چھوٹے ہی منکر ہوتے ہیں۔
تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح امت کے باہمی اختلافات کم ظاہر ہوں گے، اور برائیوں کے خلاف امت کا مشترکہ موقف زیادہ واضح ہوکر سامنے آئے گا۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کسی اختلافی مسئلہ میں ایک دوسرے پر نکیر کی جاتی ہے، تو چونکہ ہر ایک اپنے موقف کو درست سمجھتا ہے، اس لئے اس کا دفاع بھی کرتا ہے، اور اس طرح نکیر اور دفاع کا یہ سلسلہ رکتا نہیں ہے بلکہ روز بروز شدت اختیار کرتا جاتا ہے، اور امت کے اختلافات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
اختلافی امور کے سلسلے میں مالکی فقہاء کے یہاں ایک اور حکیمانہ رہنمائی ملتی ہے، وہ یہ کہ اگر کسی اختلافی مسئلہ میں دونوں طرف برابر درجے کی دلیلیں ہوں اور آپ کسی کو اس کام سے روکنا ہی چاہتے ہوں جسے آپ درست نہیں سمجھتے تو بہت نرمی کے ساتھ اس کے سامنے اپنی بات رکھیں، نہ تو نکیر کا لہجہ ہو اور نہ سرزنش کا اسلوب ہو۔ أُرْشِدَ لِلتَّرْكِ بِرِفْقٍ مِنْ غَيْرِ إنْكَارٍ وَلَا تَوْبِيخٍ
افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک دوسرے پر نکیر زیادہ تر اختلافی اور اجتہادی مسائل کو لے کر ہوتی ہے، جن معاملات میں سب کی رائیں درست ہوسکتی ہیں ان معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ بدترین تشدد کا برتاؤ اختیار کیا جاتا ہے، جہاں گفتگو کا لہجہ بے حد نرم ہونا چاہئے وہاں نہایت سختی کا اظہار کیا جاتا ہے، جن موضوعات پر خالص علمی اور تحقیقی گفتگو ہونی چاہئے انہیں انتہائی جذباتی رنگ دے دیا جاتا ہے۔
اور شیطان قریب ہی کھڑا مسکراتا ہے، کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے علم بردار کس طرح اختلافی مسائل میں باہم دست وگریباں ہیں اور شیطان کی سرپرستی میں ہر طرح کی برائیوں کا کاروبار خوب اطمینان کے ساتھ دن کے اجالے اور رات کے اندھیرے میں زور وشور سے چل رہا ہے، اس گندے کاروبار پر کسی کو نکیر کرنے کی فرصت نہیں ہے۔
کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ مسلم سماج میں مسجد والوں کے آپسی جھگڑوں کا تو خوب چرچا ہوتا ہے، مگر مسجد والوں کے شراب خانے والوں سے کسی معمولی اختلاف کی کوئی خبر کبھی سننے میں نہیں آتی۔

اپنے گھر کو نماز والا گھر بنائیں

اپنے گھر کو نماز والا گھر بنائیں
محی الدین غازی
(اس سال ماہ رمضان میں آپ ایک بڑا کام یہ بھی کرسکتے ہیں کہ اپنے گھر میں نماز کو اس کا اصل مقام لوٹادیں، کسی اور ماہ میں یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا، ماہ رمضان میں اس کے لئے گھر میں ماحول سازگار ہوتا ہے)
اسلامی گھر کی پہلی اور سب سے اہم علامت یہ ہے کہ وہاں نماز کو ہر مصروفیت سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی گھر کے ٹائم ٹیبل میں نماز کے اوقات بہت روشن اور جلی حرفوں میں لکھے ہوتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو گھر کے سب لوگوں کے سامنے ایک ہی ضروری کام رہے اور وہ نماز کی ادائیگی ہو۔
جس طرح ہر ذات سے بڑھ کر اللہ کی ذات سے محبت کرنا نجات کے لئے ضروری ہے، اسی طرح ہر کام سے بڑھ کر نماز کے کام کو اہمیت دینا نجات کے لئے ضروری ہے۔ آپ کے گھر کو اللہ کے گھر سے گہری نسبت ہونی چاہئے، اور وہ نسبت نماز سے قائم ہوتی ہے، جس طرح اللہ کے گھر میں سب اہم کام نماز ہے، اسی طرح آپ کے گھر میں نماز کے وقت سب سے اہم کام نماز بن جائے۔ اللہ کے رسول کی سیرت سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔
جس گھر میں نماز کا اہتمام ہوتا ہے، اس گھر میں برائیوں اور بے حیائیوں کا داخلہ مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ نماز برے کاموں سے اور فحش کاموں سے روکتی ہے۔ گھر میں بچے بدتمیزی نہیں کریں، برائی اور بے حیائی سے بچے رہیں، اس کا سب سے موثر نسخہ یہ ہے کہ بچوں کے اندر نماز کا شوق پیدا کردیا جائے۔ خبردار رہیں کہ جب کسی گھر میں برائی اور بے حیائی کا سیلاب داخل ہوجاتا ہے تو پھر بچنا اور بچانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
جس گھر میں بڑے اور بچے نماز کا اہتمام کرتے ہیں، اس گھر میں بچے بڑوں کا خیال اور احترام کرتے ہیں۔ جب بڑے اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے حقوق پہچانیں، تو اللہ ان بچوں کے دلوں میں اپنے والدین اور بزرگوں کے حقوق کا شعور پیدا کردیتا ہے۔ جو لوگ اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت ان کے دلوں میں اللہ سے تعلق کی آبیاری نہیں کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں اللہ ان بچوں کی نشوونما کرتے ہوئے ان کے دلوں سے ان کے بڑوں کا خیال نہ نکال دے۔ قرآن مجید میں اس بات کے لئے اشارے موجود ہیں۔
بچوں کو نماز کا عادی اور شوقین بنانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں اپنی نمازوں کا ساتھی بنالیں۔ جب آپ گھر میں رہیں تو کوئی نماز ان کے بنا نہیں پڑھیں۔ فجر سے لے کر عشاء تک ہر نماز میں ان کے ساتھ مسجد جائیں اور ساتھ ہی واپس آئیں۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے نماز کے عادی اور شوقین بنیں گے، دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے آپ کے دوست بنیں گے، نماز کی قربت جنریشن گیپ کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔
جتنی کم سنی سے آپ اپنے بچے کو مسجد کا ساتھی بنالیں اتنا ہی اچھا ہے۔ مسجد جائیں تو بچوں کے ساتھ پرلطف باتیں کرتے ہوئے جائیں، مسجد کا سفر ان کے لئے بوجھ نہیں بلکہ شوق بن جائے، اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مسجد جانا خود آپ کے لئے بوجھ نہیں بلکہ شوق ہو۔ یہ بات جان لیں کہ میٹھی اور گہری نیند سے اٹھ کر نماز پڑھنا ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر محنت کرکے اسے زندگی کا معمول بنالیں تو وہ بالکل مشکل نہیں رہتا ہے۔
ضروری ہے کہ گھر کے سارے لوگوں کے دلوں میں نماز کا مقام ہر کام سے بلند رہے، ساتھ ہی گھر کے سارے افراد کو یہ بھی معلوم رہے کہ آپ کے دل میں نماز کا مقام ہر کام سے بلند ہے۔ آپ کے تعلقات کی بنیاد نماز بن جائے، اگر بچے اسکول کا ہوم ورک نہیں کریں یا اپنے حصے کا گھر کا کام نہیں کریں تو ہوسکتا ہے آپ نظر انداز کردیں، لیکن اگر وہ نماز نہیں پڑھیں تو آپ ان سے ضرور ناراض ہوجائیں، اور اس وقت تک ناراض رہیں جب تک وہ نماز پڑھنا نہیں شروع کردیں۔ ان کو ہمیشہ یہ احساس رہے کہ ان کے نماز پڑھنے سے آپ کو بہت خوشی حاصل ہوتی ہے، اور ان کا نماز چھوڑ دینا آپ کے دل پر انتہائی شاق اور ناقابل برداشت ہوتا ہے۔
جب بچے آپ کی مصروفیات میں مداخلت کرکے آپ کو بتائیں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے، اور جب بچے تھکن کے باوجود یہ تجویز دیں کہ مسجد میں جاکر نماز پڑھ لی جائے، تو سمجھیں کہ بچوں کی نشوونما نماز کی محبت کے ساتھ ہورہی ہے۔ نہایت ضروری ہے کہ بچوں کی نشونما میں غذا کے ساتھ نماز بھی شامل رہے، غذا جزو بدن بنے اور نماز جزو روح بنے، ورنہ لاغر روح والے فربہ جسم کو تیار کرکے آپ اپنے بچے کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کریں گے۔
آپ کے گھر آنے والوں کو بھی یہ معلوم رہے کہ آپ کے گھر میں نماز کو اللہ سے تعلق کی ضروری علامت سمجھا جاتا ہے، اور اللہ سے محبت کو ہر محبت پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر کوئی بے نمازی میہمان آپ کی پرتکلف ضیافتوں کا لطف اٹھاتا رہے، اور آپ اس کی روش پر فکرمندی اور ناپسندیدگی ظاہر نہیں کریں تو یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اس کا خراب اثر آپ کے بچوں پر بھی پڑتا ہے، غیر شعوری طور پر ان کے دل میں نماز کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔
شوہر اور بیوی اور بچوں کے درمیان تعلقات بہت مضبوط اور مستحکم ہوجاتے ہیں، جب وہ نماز کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں، شوہر بیوی کو نماز کے لئے اٹھائے، اور بیوی شوہر کو نماز کے لئے اٹھائے۔ یاد رکھیں جب آپ اپنے بیوی بچوں کو نماز کے لئے ترغیب دیتے ہیں تو آپ ایک زبردست انبیائی سنت پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کو اللہ کے محترم گھر کے پاس بسایا، ایک ایسی وادی میں جہاں کوئی پودا نہیں اگتا، اور مقصد صرف یہ تھا کہ وہ نماز کا اہتمام کریں۔ ابراہیم علیہ السلام جب بہت بوڑھے ہوگئے، اس وقت بھی دعا کرتے اور کہتے، رب اجعلني مقیم الصلاۃ ومن ذریتي، میرے رب مجھے نماز کا اہتمام کرنے والا بنادے، اور میری اولاد کو بھی نماز کا اہتمام کرنے والا بنادے۔ اسماعیل علیہ السلام کی اللہ پاک کے نزدیک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکات کی تاکید کرتے تھے۔ لقمان علیہ السلام بھی اپنے بیٹے کو نماز کا اہتمام کرنے کی نصیحت کرتے۔ عیسی علیہ السلام نے بچپن میں اپنے بارے میں بیان دیا، تو بتایا کہ میرے رب نے مجھے تاکید کی ہے کہ زندگی بھر نماز اور زکات کا اہتمام کرتا رہوں۔ رسول پاک ﷺ کو خصوصی ہدایت تھی، کہ اپنے اہل کو نماز کا حکم دیں، اور اس پر جمے رہیں۔ ازواج مطہرات کو بھی نماز اور زکات کے اہتمام کا خصوصی حکم دیا گیا تھا۔
رسولوں کی اس روشن تاریخ سے ہم بھی اپنے گھروں کو روشن کرسکتے ہیں۔

آؤ دسترخوان بچھائیں، مل جل کر سب کھانا کھائیں

آؤ دسترخوان بچھائیں، مل جل کر سب کھانا کھائیں
محی الدین غازی
مشفق میزبان بہت فکرمند تھے کہ رات کے ڈیڑھ بجے اسٹیشن ویران ہوجاتا ہے، اور ملک کا ماحول خراب ہے، ان کا خیال تھا کہ میرا رات میں اکیلے اسٹیشن جانا اور پھر تنہا ایک لمبا سفر کرنا خطرناک ہے، خاص طور سے مذہبی حلئے میں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرین کے سفر میں پیش آنے والے کچھ انسانیت سوز واقعات اور پھر ان کی سوشل میڈیا پر مسلسل گردش نے بہت سے لوگوں کے دل میں شدید خوف پیدا کردیا ہے۔
پروگرام کے مطابق میں اسٹیشن پہونچ گیا، اور رات ڈیڑھ بجے ایک طویل سفر شروع ہوا، اگلے دن ایک اسٹیشن پر تقریبا پندرہ ہندو جوان ڈبے میں داخل ہوئے اور اپنے ریزرویشن کے مطابق مختلف سیٹوں پر بیٹھ گئے، دوپہر کا وقت تھا اور میں کھانا کھاچکا تھا، اپنے کیبن میں میں اکیلا تھا اور باقی سیٹیں خالی تھیں، میں نے دیکھا کہ ان سب نے آپس میں کچھ مشورہ کیا اور میرے کیبن میں جمع ہونے لگے، میرے دل میں تشویش کی ایک لہر سی دوڑ گئی، مگر تھوڑی دیر میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ لوگ مل بیٹھ کر کھانا کھانا چاہتے ہیں، اور اس کے لئے انہیں یہ خالی کیبن مناسب لگا ہے۔
میں کھڑکی کی طرف کھسک کر بیٹھ گیا، ان میں سے کچھ تو سیٹوں پر بیٹھ گئے اور باقی وہیں کھڑے ہوگئے۔ ان کے پاس زیادہ سے پراٹھے تھے اور طرح طرح کی سبزیاں اور چٹنیاں تھیں، پہلے دو دو پراٹھے سب کے ہاتھوں میں تھمادئے گئے، اور پھر ہر ایک اپنے اپنے ٹفن میں سے تھوڑی تھوڑی ہر طرح کی سبزی اور چٹنی سب کے پراٹھوں پر ڈالنے لگا، میں کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھنے لگا، اتنے میں ایک نے پراٹھا میری طرف بڑھایا، میں نے فورا معذرت کرلی اور اپنے جھولے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ میں ابھی کھانے سے فارغ ہوا ہوں، تھوڑی ہی دیر بعد پھر انہوں نے کھانے میں شریک ہونے کی پیش کش کی، میں نے معذرت کی مگر وہ سب اصرار کرنے لگے۔
میرے ذہن میں کئی باتیں آرہی تھیں، بچپن میں امی کی نصیحت کہ راستے میں کسی اجنبی کی دی ہوئی چیز مت کھانا، زہر خورانی کے بہت سارے آنکھوں دیکھے واقعات، اور پھر ان کا ہاتھ دھوئے بغیر کھانا بانٹنا، اور پھر ہندووں سے سدا کی اجنبیت، میں نے اور زیادہ شدت کے ساتھ معذرت کرلی۔
اب ان سب نے کھانا کھانا شروع کردیا اور میں کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ اللہ کے رسول کا مکہ والوں سے قبیلہ کا تعلق تھا، اور عرب کے دوسرے لوگوں سے شعب (قوم) کا تعلق تھا، قبیلے اور قومیں اللہ تعالی نے ایک بڑی حکمت کے تحت بنائے ہیں، ان سے آپس میں تعارف ہوتا ہے، ایک قبیلے کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے خوب مانوس رہتے ہیں، اور ایک قوم کے لوگ بھی ایک دوسرے سے آسانی سے مانوس ہوجاتے ہیں (وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا)۔ ہم مسلمانوں کا اس ملک میں رہنے والوں سے نہ قبیلے کا تعلق رہا اور نہ قوم کا تعلق باقی رہ سکا، اجنبیت کے بڑے بڑے صحرا ہمارے بیچ میں حائل ہیں، اس قدر اجنبیت کے ساتھ ہم اپنا پیغام ان تک کس طرح پہونچا سکتے ہیں، اور اپنے بارے میں غلط فہمیاں کیسے دور کرسکتے ہیں۔
ابھی میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ انہوں نے دوبارہ مجھے متوجہ کرکے پراٹھا میری طرف بڑھایا، مجھے بھوک بالکل نہیں تھی مگر میں نے دل تھام کر وہ پراٹھا تھام لیا، پراٹھا میرے ہاتھوں میں آنا تھا کہ ان کے درمیان خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی، اور ہر کسی نے کچھ نہ کچھ میرے پراٹھے پر ڈالنا شروع کردیا، میں نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ انہوں نے ایک اور پراٹھا اصرار کے ساتھ دے دیا، اب مجھے ان کے ساتھ کھانے میں لطف آنے لگا تھا، تھوڑی دیر میں مجھے احساس ہوا کہ میں ان کے قبیلے کا ایک فرد ہوں، یہ احساس اپنے اندر عجیب سی فرحت لئے ہوئے تھا، کھانا ختم ہوا تو شکر اور گھی پر لپٹی ہوئی روٹیاں آدھی آدھی کرکے تقسیم کی گئیں، آدھی روٹی میرے حصے میں بھی آئی، میں سوچنے لگا کہ یہ سب اپنے اپنے گھر سے لائی ہوئی چیزیں تقسیم کرکے کھارہے ہیں، آخر میں کیسے اس تقسیم میں اپنا حصہ شامل کروں، پھر خیال آیا اور میں نے بیگ سے عرب کی کھجوریں نکالیں اور اپنے ہاتھ سے سب کو بانٹ دیں، شاید ہمارے ملک کے ہندو کھجور سے زیادہ آشنا نہیں ہیں، بہرحال انہیں وہ کھجور بہت اچھی لگی۔
شام ہوئی تو ان میں سے ایک نے چاول کے لڈو نکال کر بانٹے، ایک لڈو میرے حصہ میں بھی آیا، بہت لذیذ تھا، رات میں میرا اسٹیشن آگیا اور سب نے دروازے پر آکر مجھے اس طرح رخصت کیا جیسے وہ اپنے قبیلے کے ایک فرد کو رخصت کررہے ہوں، کچھ نے میرے ساتھ سیلفی بھی لی۔ میں اترگیا، پھر ٹرین چل دی اور میں اپنے چاہنے والوں کی طرف دیر تک دیکھتا رہا، یہ سب لوگ بہت دور کسی ’’دیوی‘‘ کے درشن کے لئے جارہے تھے۔
میرا یہ احساس پہلے بھی تھا، اور اب تو اور گہرا ہوگیا ہے، کہ ہندوستانی عوام کے ذہن کو پڑھنے کے لئے اور ہندوستان کے حالات کو جانچنے کے لئے سب سے معتبر اور بہترین ذریعہ ٹرین ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا غیر معتبر ہے، اور سوشل میڈیا تو بالکل بھروسے کی چیز نہیں ہے، بستیوں کا حال یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو ایک دوسرے سے الگ تھلگ تحفظات کے ساتھ رہتے ہیں، اور ایک دوسرے کو ٹھیک سے پڑھنے کا موقع نہیں ملتا، ٹرین میں سب لوگ ایک دوسرے سے بہت قریب آجاتے ہیں، اور ایک دوسرے کو آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ آپ ٹرین میں جتنا زیادہ سفر کریں گے اتنا ہی زیادہ لوگوں کو پڑھ سکیں گے۔ میں نے ٹرین میں سفر کرتے ہوئے جس قدر ہندووں کو پڑھا ہے، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہندووں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے ابھی تک اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں، بہت سے ہندو ابھی بھی مسلمانوں سے نفرت نہیں رکھتے ہیں، اور حلئے سے مذہبی نظر آنے والے مسلمانوں کا تو وہ بہت احترام کرتے ہیں۔
یہ صورت حال ایسی ہی رہے گی یہ ضروری نہیں ہے، نفرت پھیلانے والے اپنا کام مسلسل کئے جارہے ہیں، ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے، انہیں آگے بڑھ کر نفرت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنا ہوگا، یہ کام سیکولر ہندووں سے زیادہ اچھی طرح دین دار مسلمان کرسکتے ہیں۔ اس ملک میں اسلام کا تعارف عام ہونا بہت ضروری ہے، کہ وہ سچا اور بہت اچھا دین ہے، اور مسلمانوں کا تعارف عام ہونا بھی بہت ضروری ہے کہ وہ اچھے اور قابل اعتماد لوگ ہوتے ہیں، ان کی انسانیت، دین داری اور امانت داری پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے، ملک کی بساط پر اچھا دسترخوان چننے 

میرا پیارا بچپن

میرا پیارا بچپن
محی الدین غازی
امی پورے خاندان میں اپنی سختی کے لئے ممتاز تھیں، میرے نانیہال کے سارے بچے ان سے ڈرتے تھے، دوسری طرف ابا اپنی نرمی کے لئے ممتاز کہ کسی کو ذرا تکلیف میں دیکھتے اور دل بے قرار ہوجاتا، اس بے مثال سختی اور اس بے نظیر نرمی کے درمیان میرا بچپن بڑے مزے سے گزرا۔
مجھے بچپن کی دو چیزیں سب سے زیادہ یاد ہیں، کتابیں پڑھنا اور بہنوں کے ساتھ کھیلنا، کبھی وہ میرے ساتھ فٹ بال جیسے کھیل کھیلتی تھیں، اور کبھی میں ان کے ساتھ گڑیا اور گھروندے کے کھیل کھیلتا تھا۔
امی باہر کے ماحول سے بہت زیادہ خوف زدہ رہتی تھیں، اور سختی سے نگرانی کرتی تھیں کہ میں باہر کی کسی برائی کے نزدیک نہیں چلا جاؤں یا باہر کی کوئی برائی میرے پاس نہیں آجائے۔
گلی میں کھیلنے والے بچے گالیاں بھی بکتے تھے اور فلمی گانے بھی گاتے تھے، لیکن میری مجال نہیں تھی کہ زبان پر کوئی گندا لفظ یا کوئی فلمی گانا آجائے، امی کی دھمکی کان میں گونجتی تھی کہ کوئی گندی بات سنی تو زبان جلادوں گی، مجھے امی کی دھمکی کے سچ ہوجانے کا پورا پورا یقین تھا، اس لئے نہ میں نے کبھی کوئی گندی بات کہی اور نہ امی نے زبان جلائی۔
امی نے گلاس ٹوٹنے پر کبھی نہیں مارا، لیکن بڑوں کے ساتھ بے ادبی کرنے پر کبھی نہیں بخشا، بڑوں کا ادب امی نے بچپن سے ہی عادت کا حصہ بنادیا تھا۔ گھر میں کام کرنے والی خاتون ہوں یا دودھ لانے والے بزرگ ہوں ہمارے لئے کوئی خالہ اور دادی تھیں اور کوئی چچا اور دادا تھے، کسی کو نام لے کر پکارنے کی مجال نہیں تھی۔
کتابیں پڑھنا میرا بہترین مشغلہ تھا، امی کے ساتھ کسی کے یہاں گھومنے جاتا تو میزبان کے گھر میں کھلونوں کے بجائے کتابیں تلاش کرتا، اور کوئی کتاب مل جاتی تو اس میں غرق ہو جاتا، اور پھر کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ امی مجھے اچھی کتابیں پڑھنے دیتی تھیں، اور نگاہ رکھتی تھیں کہ کوئی نامناسب کتاب میرے ہاتھ نہ لگ جائے۔
نانا ابا شیروانی پہنتے تھے اور انہوں نے میرے لئے اس وقت شیروانی سلوائی جب میری عمر محض چھ سات سال تھی، نانا ابا اپنے بیٹوں اور نواسوں کو شیروانی میں دیکھ کر خوش ہوتے تھے، اور اس طرح بڑی خوب صورتی سے ہمارے دلوں میں اپنے اونچے خواب تعمیر کیا کرتے تھے۔
بچپن سے ہی میرے دل میں بڑا عالم بننے کا شوق پیدا ہوگیا تھا، یہ شوق ابا جان کو دیکھ کر پیدا ہوا تھا، لیکن اس شوق کی مسلسل آبیاری امی نے کی تھی، وہ سدا یہی کہتی رہیں کہ تم کو اپنے ابا کے جیسا بننا ہے۔ ابا جان ان کے لئے ایک مثالی شخصیت تھے۔ بڑا عالم بننے کے شوق نے مجھے ایک پرشوق طالب علم بنا دیا، اور اب تمنا یہ ہے کہ زندگی طالب علمی کا لطف اٹھاتے ہوئے گزرتی رہے۔
میں نے اردو اور ہندی دونوں زبانیں جتنی بھی سیکھیں گھر میں سیکھیں، میں ان دونوں زبانوں کے سلسلے میں صرف امی کا شاگرد رہا، ابا جان کو ہر وقت پڑھتے اور لکھتے دیکھ کر پڑھنے اور لکھنے کا شوق پیدا ہوا، لیکن حروف پہچاننا اور قلم پکڑنا امی سے سیکھا، میرا داخلہ اسکول میں پہلی بار درجہ چہارم میں ہوا، اس سے پہلے کی ساری تعلیم گھر میں امی کی درس گاہ میں ہوئی، اس چھوٹی سی درس گاہ میں امی تھیں اور میں اور میری چھوٹی دو بہنیں۔
بچپن میں بہت سے اساتذہ سے سیکھنے کا موقع ملا، رامپور کی مرکزی درس گاہ میں درجہ چہارم میں داخلہ لیا اور نامکمل چھوڑ کر امی کے ساتھ اور ابا کے پاس مدینہ منورہ چلا گیا، وہاں عربی مدرسے میں درجہ اول میں داخلہ ہوا اور پھر پانچ سالوں میں تین بار مکان بدلا اور ساتھ ہی اسکول بھی بدلا، اس طرح چار مدرسوں کے بہت سے اساتذہ سے بچپن ہی میں ملاقات ہوگئی، ان میں سے چند ایسے بھی ملے جو چھوٹے طلبہ کو اونچے خواب دکھانے کی فکر کرتے تھے۔ میرے محسن بزرگوں کی فہرست میں وہ اونچے خواب دکھانے والے اساتذہ سرفہرست نظر آتے ہیں۔
میں نے اپنے بچپن سے یہ سیکھا ہے کہ بچپن میں اونچے خواب دکھانے والے لوگ مل جائیں تو بچپن بہت حسین وجمیل ہوجاتا ہے۔ میں اس لحاظ سے بچپن میں بہت خوش نصیب رہا۔ ابا جان سے عزائم کو جلا دینے والی اور حوصلہ بڑھانے والی باتیں سننے کو ملتی رہیں، یہ باتیں دل میں اترجاتی تھیں اور کئی کئی دن تک دل کو پرجوش رکھتی تھیں، ان سے پیدا ہونے والی کیفیتیں میری زندگی کا نہایت قیمتی سرمایہ ہیں۔
بچپن میں امی نے ہمیں رزق کی قدر کرنے پر بہت ابھارا، ان کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ روٹی تازہ ہو یا باسی ہمیں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، کھانے میں دال روٹی ہو یا قورمہ اور بریانی، ہر حال میں بہت خوش ہو کر کھانا کھاتے۔ امی نے اس کی تربیت بھی دی تھی کہ جو چیز کم ہو اسے بھائی بہنوں میں بانٹ کر کھایا جائے۔ امی کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آج بھی مل بانٹ کر کھانے میں جو لطف ملتا وہ کبھی اکیلے کھانے میں نہیں ملتا۔
بچپن میں سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی تھی جب کوئی بڑا سب کے سامنے ڈانٹ دیتا تھا۔ بہت سے بڑے لوگ چھوٹے بچوں کے جذبات کا لحاظ نہیں کرتے ہیں، اور برسر عام جھڑک کر بے عزت کردیتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کے پاس جذبات نہیں ہوتے ہیں، حالانکہ بچوں کے پاس جذبات ہوتے ہیں اور بچوں کی طرح ہی ان کے جذبات بھی نازک ہوتے ہیں۔
بچپن میں دادی جان کی خدمت کرنے کا موقعہ بھی خوب ملا، میری دادی بہت ضعیف تھیں، اور ان کے جسم میں درد رہتا تھا، امی خود بھی دادی کا بہت خیال رکھتی تھیں، اور ہم سے بھی ان کی خوب خدمت کراتی تھیں۔ ہم بھائی بہن مل کر روز شام کو کافی دیر تک ان کے پاؤں دبایا کرتے تھے۔ امی نے اس طرح ہمیں دادی کی دعائیں لینے کا خوب خوب موقعہ فراہم کیا۔ جب ہم دادی کے پاؤں دباتے تو ابا ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ ابا دادی سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی ذرا سی تکلیف پر بے چین ہوجاتے تھے۔
بچپن میں بڑی بڑی شخصیات کو دیکھنے اور سننے کا موقع ملا، مولانا جلیل احسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو میں مدرسہ والے دادا کہتا تھا، ان کے کمرے جاتا تو کچھ نہ کچھ کھانے کو ضرور مل جاتا، مشہور شاعر حفیظ میرٹھی کو روبرو سنا اور متاثر ہوا، ان کی کئی غزلیں بچپن ہی میں یاد کرلیں۔
کلاس مانیٹر اور ٹیم کیپٹن بننے کا شوق مجھے شروع سے رہا، اور ہمیشہ یہ شوق پورا بھی ہوتا رہا، کھیل اور تعلیم سے جڑے مقابلوں میں شرکت کا شوق بھی بہت زیادہ تھا، ہر مقابلے میں شرکت ضرور کرتا تھا، چاہے کوئی پوزیشن آئے یا نہ آئے۔ سب سے پہلے اسٹیج پر مرکزی درس گاہ رامپور کے سالانہ تعلیمی ہفتے میں حدیث پڑھنے کے لئے گیا، پہلی پوزیشن آئی، اس سے حوصلہ ملا اور سرگرمیوں میں شرکت کرنا ایک شوق بن گیا۔ میرا تجربہ ہے کہ بچپن میں ملنے والے مواقع پوری زندگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
ایک دن امی کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو بہتے ہوئے دیکھے، پوچھا امی کیوں رو رہی ہیں، امی نے بتایا مولانا مودودی کا انتقال ہوگیا، بس اس دن سے مولانا مودودی کی عظمت دل پر نقش ہوگئی۔ اسی طرح ایک دن ابا کی تقریر مرکزی درس گاہ رام پور میں سنی، ابا حسن البنا کا ذکر کررہے تھے اور رہ رہ کر رونے لگتے تھے، میں بھی اس دن سے حسن البنا شہید کا عقیدت مند ہوگیا۔ دونوں شخصیتوں کے بارے میں جب بعد میں پڑھا تو ان کی قدر اور بڑھی۔
میں نے بچپن میں بہت سے بڑوں کا پیار پایا، اللہ سے دعا ہے کہ انہیں ان کے پیار کا بہت پیارا صلہ ملے، ان کا پیار نہیں ہوتا تو میرا بچپن اتنا حسین وجمیل نہیں ہوتا۔
(یہ مضمون ’’جنت کے پھول‘‘ کے مدیر نے اصرار کرکے لکھوادیا، موصوف کا بہت بہت شکریہ)

طلاق کا ’’دینا‘‘ اور طلاق کا ’’پڑنا‘‘

طلاق کا ’’دینا‘‘ اور طلاق کا ’’پڑنا‘‘
محی الدین غازی
مسلم پرسنل لا کے تعلق سے سب سے سنگین مسئلہ طلاق کا ہے، اگر طلاق کے مسئلے پر امت ایک صحیح موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کرلے، تو مسلم پرسنل لا بڑی حد تک محفوظ ہوسکتا ہے۔
شوہر بیوی کو مختلف حالات میں اور مختلف طریقوں سے طلاق دیتا ہے، اور پھر شریعت کی رو سے بیوی پر یا تو طلاق پڑ جاتی ہے یا نہیں پڑتی ہے۔ بیوی پر طلاق پڑی یا نہیں پڑی، یہ جاننے کے لئے صاحب معاملہ کسی مفتی صاحب سے رجوع کرتے ہیں، اور مفتی صاحب اپنے فقہی مسلک کی روشنی میں جواب دیتے ہیں، ان کا جواب عام طور سے ان کے فقہی مسلک کے مطابق ہوا کرتا ہے۔
طلاق کے سلسلے میں اصلاح کا ایک محاذ یہ ہے کہ شوہر کو طلاق دینے کا مثالی طریقہ اور طلاق دینے کے آداب بتائے جائیں۔ طلاق کے آداب اور طلاق کا صحیح طریقہ نہیں جاننے اور نہیں اختیار کرنے کی وجہ سے پورا خاندان پریشانی اور مصیبت سے دوچار ہوتا ہے۔
طلاق کے سلسلے میں اصلاح کا ایک دوسرا اہم محاذ یہ ہے کہ طلاق پڑنے کے سلسلے میں ایک درست اور مناسب موقف اختیار کیا جائے۔ طلاق پڑنے کے معاملے میں بے اعتدالی کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ ایک بہترین اور صحت مند سماجی صورت حال قائم رکھنے کے لئے طلاق دینا بھی اصلاح طلب ہے، اور طلاق پڑنا بھی توجہ طلب ہے۔
طلاق پڑنے کے سلسلے میں دو فقہی رویے پائے جاتے ہیں، ایک رویہ یہ ہے کہ شوہر کے منھ سے طلاق نکل گئی ہے، تو وہ واقع ہوجائے گی، خواہ کیسے ہی حالات میں طلاق کے یہ الفاظ اس کے منھ سے نکلے ہوں۔ ایک دوسرا رویہ یہ ہے کہ طلاق اس وقت تک نہیں واقع ہوگی جب تک کہ یقین نہ ہوجائے کہ شوہر کی حقیقی منشا طلاق واقع ہونے کی ہے۔ دونوں رویوں میں بڑا فرق ہے، ایک طرف کوشش یہ ہوتی ہے کہ طلاق دے دی گئی ہے تو پڑ بھی جائے، اور دوسری طرف یہ کوشش ہوتی ہے کہ طلاق کسی طرح نہیں پڑے۔
برصغیر کے مسلم سماج میں جو فقہی رویہ رائج ہے وہ طلاق پڑنے والا رویہ ہے، طلاق کو پڑنے سے روکنے والا رویہ نہیں ہے۔ یہاں طلاق کا دینا بھی بہت آسان سمجھا جاتا ہے، اور طلاق کا پڑنا بھی بہت آسان مانا جاتا ہے، ادھر گولی نکلی اور ادھر نشانے پر جا بیٹھی، کبھی کبھی تو طلاق دینے والا شوہر بھی حیران ہوجاتا ہے کہ طلاق کیسے ہوگئی، میں نے تو ایسا کچھ نہ چاہا تھا اور نہ سوچا تھا۔
اس کے برعکس یہاں خلع کا عمل بہت دشوار ہے، خلع چاہنے والی عورت اور اس کے گھر والے شوہر کا پیچھا کرتے اور دار القضا کے چکر لگاتے عاجز آجاتے ہیں، اور خلع حاصل نہیں ہوپاتا۔ حالانکہ نہ طلاق کو اتنا آسان ہونا چاہئے اور نہ خلع کو اس قدر مشکل ہونا چاہئے۔
طلاق کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی مذاق میں طلاق دے دے، ایسے شخص کو اس کے غیر شرعی مذاق کی قرار واقعی سزا ملنی چاہئے، لیکن اس کے مذاق کی سزا پورے خاندان کو دینے کی کیا ضرورت ہے۔ جب طلاق دینا خود طلاق دینے والے کا مقصد نہیں ہے، تو طلاق پڑجانے پر اصرار کیوں کیا جائے۔
طلاق کی ایک صورت یہ ہے کہ غلطی سے یہ لفظ منھ سے نکل جائے، لیکن غلطی سے اگر کوئی لفظ زبان سے نکل جائے تو اس کی اتنی بڑی سزا تو نہیں ہونی چاہئے۔
طلاق کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی غصہ سے بے قابو ہو کر طلاق دے دے، اور جب غصہ اترجائے تو اسے احساس ہو کہ اس نے غصہ کے نشے میں کیا بک دیا، سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہوش میں آنے کے بعد وہ خود محسوس کرتا ہے کہ جو بھی ہوا بلا ارادہ ہوا، اور وہ ہر طرح سے یہی چاہتا ہے کہ طلاق نہیں پڑے تو اس کے پڑنے پر اصرار کیوں کیا جائے۔
اسی طرح نیند کی حالت کی طلاق ہے، شراب کے نشے میں دی گئی طلاق ہے، ڈرا دھمکا کر دلائی گئی طلاق ہے، ایسی سب طلاقوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ شوہر بیوی سے جدا ہونا نہیں چاہتا ہے۔ جب شوہر جدا ہونا چاہتا ہی نہیں ہے، تو شوہر اور بیوی کے رشتہ زوجیت کو بچانے کی راہیں کیوں نہ تلاش کی جائیں، طلاق پڑنے کی راہ کو ترجیح کیوں دی جائے۔
طلاق کی مذکورہ بالا صورتوں کے سلسلے میں بہت سے فقہاء یہی کہتے ہیں کہ طلاق واقع ہوجائے گی، تاہم ایسی ہر صورت کے سلسلے میں ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، اس نقطہ نظر کی بھرپور تائید اور ترجمانی ڈاکٹر احمد دسوقی اپنی ایک کتاب میں کرتے ہیں۔ کتاب کا نام ہے، الاسرۃ فی التشریع الاسلامی، اور اس کے مصنف قطر یونیورسٹی میں فقہ کے پروفیسر ہیں۔ کتاب میں اسلامی خاندان سے متعلق فقہی مسائل پر بڑی اچھی گفتگو ہے، خاص طور سے طلاق کے مسئلے پر تو بہت ہی عمدہ اور معرکۃ الآرا بحثیں ہیں۔
طلاق بدعی کے سلسلے میں عام فقہاء کی رائے یہ ہے کہ ایسی طلاق دینا تو غلط اور خلاف سنت کام ہے، لیکن اگر طلاق دے دی تو پھر وہ پڑ جائے گی۔ ڈاکٹر دسوقی دوسری رائے کو ترجیح دیتے ہیں کہ ایسی طلاق دینے کی سزا تو ملنی چاہئے لیکن طلاق واقع نہیں ہوگی، طلاق بدعی یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے، یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس نے صحبت کر لی ہو، ایسے وقت میں طلاق دینے سے منع کیا گیا ہے، اس کی حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ طلاق کے لئے مناسب وقت وہ ہے جب بیوی کی طرف رغبت کے سارے امکانات کے باوجود شوہر طلاق دے، غرض ایسی صورت میں جب کہ طلاق دینا خلاف سنت ہے، ڈاکٹر موصوف کے مطابق طلاق دینے پر وہ واقع نہیں ہوگی۔
ڈاکٹر دسوقی اس رائے کو بھی ترجیح دیتے ہیں، کہ ایک بار کی تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جائے، اس کے علاوہ وہ یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایک طلاق دے دی ہے تو اس طلاق کی عدت میں مزید طلاقیں دینے پر وہ مزید طلاقیں واقع نہیں ہوں گی، ایک عدت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ گویا ایک طلاق دے دی، تو پھر اس عدت میں اس پر مزید طلاقیں نہیں پڑیں گی، یا تو عدت کے اندر رجوع ہوجائے، یا پھر عدت ختم ہوجانے پر وہ اس رشتے سے بالکل آزاد ہوجائے۔
ڈاکٹر موصوف یہ رائے بھی بیان کرتے ہیں کہ طلاق کے وقت گواہوں کی موجودگی ضروری ہے، اور اگر گواہوں کی موجودگی کے بغیر طلاق دی گئی تو وہ بھی واقع نہیں ہوگی۔
طلاق کی عام صورت تو یہ ہے کہ شوہر کہہ دے میں نے تم کو طلاق دی، لیکن اس عام صورت کے علاوہ بھی کچھ صورتوں کا تذکرہ فقہاء کے یہاں ملتا ہے، ایک صورت یہ ہے کہ شوہر کسی آدمی کو اپنا وکیل بنادے اور کہے کہ میری طرف سے طلاق دے دو، ایک صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہے اگر تم نے فلاں حرکت کی تو تم پر طلاق ہے، ایک اور صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ ابھی تو نہیں پر اتنے عرصے کے بعد تم پر طلاق ہے۔
فقہاء کے درمیان ان سب صورتوں میں اختلاف موجود ہے، ڈاکٹر دسوقی کا موقف یہ ہے کہ ان تمام صورتوں میں طلاق نہیں پڑے گی۔ کیونکہ یہ سب وہ صورتیں ہیں جن میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ عین طلاق کے پڑنے کے وقت شوہر کی واقعی نیت طلاق کی ہوگی اور وہ نیت عین وقت پر نہیں بدلے گی۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو وکیل بنانے کے بجائے وہ خود اگر بیوی کے سامنے طلاق دینے کی نیت سے رو برو ہو تو بہت ممکن ہے کہ اس کا ارادہ بدل جائے۔ اسی طرح اگر بیوی وہ کام کردے جس سے شوہر نے روکا ہے پھر بھی ممکن ہے کہ عین طلاق دینے کے وقت شوہر طلاق نہیں دے اور اپنا فیصلہ بدل لے۔
ان مثالوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ طلاق کے الفاظ منھ سے نکل جانے کے باوجود طلاق کو پڑنے سے روکنے والا فقہی رویہ کیا ہے۔
ڈاکٹر موصوف یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ اگر شوہر نے بلا کسی وجہ کے طلاق دی ہے، تو بیوی کو حق ہے کہ وہ بلا وجہ طلاق دینے کے حوالے سے مناسب معاوضے کا مطالبہ کرے۔
ڈاکٹر موصوف کی رائے ہے کہ بیوی کے مطالبے پر اسے خلع ضرور ملنا چاہئے، شوہر راضی ہو خلع دینے پر یا راضی نہ ہو۔ مزید یہ کہ اگر شوہر کے ظلم وزیادتی کی وجہ سے بیوی خلع کا مطالبہ کررہی ہو تو شوہر کو خلع کا معاوضہ مانگنے کا حق نہیں ہے۔
ڈاکٹر دسوقی کی کتاب پڑھنے سے پہلے بھی اور پڑھنے کے بعد بھی میں نے جس قدر سوچا ہے اسی بات پر اطمینان ہوا ہے کہ طلاق واقع ہونے کی صورتوں کو کم سے کم کیا جائے، اور اسی صورت میں طلاق پڑجانے کا فیصلہ کیا جائے جب کہ طلاق کے پڑجانے کا پہلو بالکل واضح اور روشن ہو۔ میرا احساس ہے کہ اگر ہندوستان کے مسلم فقہاء اس دوسرے فقہی رویہ پر بھی غور کریں، تو مسلم معاشرہ کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ بے شمار معاملات ایسے پیش آتے ہیں جن میں نہ شوہر چاہتا ہے کہ طلاق پڑے اور نہ بیوی چاہتی ہے، لیکن شریعت کے حوالے سے انہیں ماننا پڑتا ہے کہ طلاق پڑگئی ہے۔ ضرورت ہے کہ شریعت کے موقف کا اس سلسلے میں از سر نو جائزہ لیا جائے۔
ایک بار کی تین طلاقوں کے سلسلے میں میری ایک رائے یہ بھی ہے کہ موجودہ صورت حال میں جب کہ عوام الناس کو ایک طلاق اور تین طلاق کا صحیح اور تفصیلی فرق معلوم نہیں ہے، ایک بار کی تین طلاقوں کو ایک طلاق ہی ماننا چاہئے، اور مکمل معلومات نہیں ہونے کے عذر کا اعتبار کرنا چاہئے۔
طلاق دینے کی ایک مثالی صورت ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، اور جس کے مثالی ہونے پر تمام لوگ متفق ہیں، اس کے پڑنے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے، اور نہ ہی اختلاف کی گنجائش ہے، البتہ مثالی طریقے سے ہٹ کر جو طلاق دی جائے، اس کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے صورت حال کا بھی لحاظ ہونا چاہئے۔
اگر یہ روایت درست ہے کہ حضرت عمر نے عوامی رویہ کی اصلاح کے لئے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین طلاق قرار دیا تھا، تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ طلاق دینے کے مثالی طریقے سے ہٹ کر جو طلاقیں دی جاتی ہیں ان کے سلسلے میں اجتہاد کی گنجائش ہے، ان کے سلسلے میں کسی ایک موقف پر اصرار نہیں کرنا چاہئے، بلکہ وہ موقف اختیار کرنا چاہئے جو دین کی روح اور شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو۔
بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا بھی ہے، اور اس سے پہلے خود شریعت کا اپنا تقاضا ہے کہ مسلم پرسنل لا کی حفاظت کے ساتھ مسلم پرسنل لا پر نظر ثانی کا کام بھی جاری رہنا چاہئے، اس طرح مسلم پرسنل لا کی اچھی تصویر بھی سامنے رہے گی، اور اس کی حفاظت کا کام بھی آسان ہوجائے گا۔

بہترین امت کا رشتہ بہترین کتاب سے

بہترین امت کا رشتہ بہترین کتاب سے
محی الدین غازی
خلیفہ دوم حضرت عمرؓ نے ایک بار خطبہ دیا اور کہا: اچھی طرح سن لو، نکاح کے موقعہ سے عورتوں کا جو مہر طے کرتے ہو، اسے بہت زیادہ بڑھا کر مت طے کرو، سن لو اللہ کے رسولﷺ کے زمانے میں جتنی رقم بطور مہر رکھی جاتی تھی، اس سے زیادہ کسی نے رکھی، تو میں زائد رقم اس سے لے کر بیت المال میں دے دوں گا۔
اعلان مکمل ہوا، خلیفہ دوم منبر سے اترے، راستے میں ایک خاتون نے انہیں روک لیا۔ اور بڑی جرأت کے ساتھ کہا: امیر المومنین ، آپ کی بات مانی جائے گی یا اللہ کی کتاب کی بات مانی جائے گی؟ انہوں نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر کہا، یقیناً اللہ کی کتاب کی بات مانی جائے گی، لیکن آخر ہوا کیا؟ خاتون نے کہا، ابھی آپ نے اعلان کیا کہ مہر زیادہ مت طے کرو۔ جبکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے، (وآتیتم احداھن قنطارا) اس کی رو سے تو مہر بہت زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ خلیفہ دوم فورا منبر پر گئے اور کہا میں نے زیادہ مہر طے کرنے سے منع کیا تھا، لیکن سنو، اپنے مال میں سے جتنی چاہو مہر دے سکتے ہو۔
واقعہ یہ ہے کہ اس بہترین امت کا ہر فرد قرآن مجید کی ایک ایک آیت پر غور کرتا تھا، اس کے اندر موجود احکام سے گہری واقفیت رکھتا تھا، اور قرآن کے حکم کو ہر حکم اور ہر حاکم سے بالا تر سمجھتا تھا، دراصل خیر امت کو نبی اکرم ﷺ نے قرآن مجید کی تعلیم کے ذریعہ تیار کیا تھا، اور قرآن مجید کی تلاوت کو خیر امت کے ہر فرد کی سب سے اہم مصروفیت بنادیا تھا، کتاب الہی کی تلاوت امت کی سطح پر جتنی زیادہ خیر امت نے کی، کسی اور امت نے نہیں کی، قرآن مجید میں پوشیدہ حکمت کے خزانوں کی تلاش خیر امت کے ہر فرد کا مطمح نظر تھا، ان خزانوں کی تلاش میں کسی نے سورہ بقرہ پر دس سال صرف کئے اور کسی نے بارہ سال، اور اتنے سال صرف کرنے کے بعد ان کو جو کچھ پالینے کا احساس ہوتا تھا، اس کی خوشی میں اونٹ ذبح کئے جاتے تھے اور دعوت عام ہوتی تھی۔ اس امت میں سب سے زیادہ ذہین اور صاحب فراست وہ مانا جاتا تھا جو سب سے زیادہ قرآن مجید پر غور کرتا تھا، خلیفہ وقت کی شوری کے لئے ان لوگوں کو اہل سمجھا جا تا تھا، جن کے دامن حکمت قرآنی کے موتیوں سے مالا مال ہوتے تھے۔
ہر طرف قرآن مجید کی حکمرانی تھی، دل کی دنیا پر بھی اور باہر کی دنیا پر بھی، کسی کو کسی علاقے کا گورنر یا قاضی بناکر بھیجا جاتا، اور پوچھا جاتا کہ فیصلے کس طرح کرو گے تو اس کا ایک ہی جواب ہوتا، اللہ کی کتاب میرے فیصلوں کی اساس ہوگی۔ کتاب الہی پر ایمان اس درجہ کا تھا، کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہتے تھے، کوئی بھی نیا مسئلہ درپیش ہو، ہمیں اللہ کی کتاب میں رہنمائی مل جائے گی۔
قرآن مجید سے ان کے لگاؤ کا عالم یہ تھا کہ وہ جب قرآن مجید پڑھتے تھے اور اس کی آیتوں پر گفتگو کرتے تھے تو ان کو لگتا تھا کہ وہ قیمتی گفتگو کررہے ہیں، اس کے علاوہ کوئی گفتگو ہو تو ان کو لگتا تھا کہ وقت ضائع ہورہا ہے، عطاء بن ابی رباح جنہوں نے صحابہ کا زمانہ پایا تھا، کہتے ہیں، تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ ہر بات کو فضول سمجھتے تھے، ماسوا اللہ کی کتاب کے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے اور ان باتوں کے جو زندگی گذارنے کے لئے ضروری ہیں۔
ان کی مجلسیں قرآن مجید پر غور وفکر کے لئے ہوتی تھیں، ان کی تنہائیاں قرآن مجید کی تلاوت سے آراستہ رہتی تھیں، وہ نماز پڑھتے تو قرآن مجید کی آیتوں میں ڈوب جاتے، بسا اوقات ایک آیت کو اس قدر دوہراتے کہ صبح ہوجاتی، حضرت اسماء نماز کے لئے کھڑی ہوئیں ، دوران تلاوت عذاب کی ایک آیت آگئی، حال یہ ہوا کہ آیت پڑھ رہی ہیں اور دعا مانگ رہی ہیں، راوی کہتا ہے کہ میں بازار گیا، واپس آیا، مگر حضرت اسماء کو اسی حال میں پایا۔
وہ جہاد کے لئے نکلتے تو قرآن مجید کی تلاوت سے قوت اور توانائی حاصل کرتے، اور جام شہادت پیتے تو ان کے لبوں پر قرآن مجید کی کوئی آیت سجی ہوتی۔
ان کے دلوں میں قرآن مجید کی عظمت اس قدر بسی ہوئی تھی ، کہ جو قرآن مجید یاد کرلیتا وہ بھی ان کی نظروں میں عظیم ہوجاتا، وہ کہتے تھے ’’ہم میں سے کوئی سورہ بقرہ پوری یاد کرلیتا تو اس کی قدر ہماری نظروں میں بڑھ جاتی‘‘ اللہ کے رسول ﷺ نے واضح لفظوں میں فرمادیا تھا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے‘‘۔
جسے قرآن مجید کو یاد کرنے اور اس پر غور کرنے کا جتنا زیادہ موقعہ ملتا، اسے اپنی ذمہ داریوں کا بھی اسی قدر زیادہ احساس ہوتا، حضرت سالم اسلام لانے سے پہلے غلام تھے، لیکن قرآن مجید سے گہرے تعلق نے انہیں وہ مقام عطا کیا تھا کہ وقت کے بڑے بڑے سردار رشک کرتے تھے، قرآن مجید سے گہرا لگاؤ تھا، اللہ کے رسول ﷺ کو ان کی تلاوت بہت پسند تھی، ایک بار فرمایا: ساری حمد اللہ کی ہے، جس نے تمہارے جیسے لوگ میری امت میں شامل کئے۔ یہی سالم جنگ یمامہ میں اسلامی لشکر کا پرچم اپنے ہاتھ میں اٹھائے تھے، اور زبان پر یہ جملہ تھا: میں بہت برا حامل قرآن ٹھیروں گا، اگر میری سمت سے مسلمانوں پر حملہ ہوا اور میں نہیں روک سکا۔
دوسری طرف ان کے جگری دوست ابو حذیفہ پکار پکار کر حاملین قرآن کو اپنی ذمہ داری یاد دلا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے، اے اہل قرآن، قرآن کو اپنے کارناموں سے سجادو۔ غور کرنے والے غور کریں، قرآن کو سجانے کی بات ہے، ریشمی جزدانوں سے نہیں، دلآویز نقش ونگار سے نہیں، عطر بیز محفلوں سے نہیں، بلکہ اپنے کارناموں سے۔ کیا شاندار تصور ہے قرآن مجید کو سجانے کا، آدمی قرآن مجید پڑھے، اس میں بڑا آدمی بننے کا راستہ تلاش کرے، کوئی بڑا کارنامہ انجام دے، اور اس کارنامہ کا جذبہ اور توفیق اس کو قرآن مجید کی آیتوں سے ملے۔
انہوں نے قرآن مجید سے گہرا تعلق قائم کیا، تو قرآن مجید نے ان کی زندگیوں میں عظیم انقلاب برپا کردیا، دنیا کے دوسرے نظام یا تو آزادی چھین لیتے ہیں، یا آزادی دے کر بڑی عیاری کے ساتھ قوت پرواز چھین لیتے ہیں، قرآن مجید نے ان کے ذہن ودماغ کو آزادی عطا کی تھی، اور آزادی کے ساتھ قوت پرواز بھی دی تھی، ساتھ ہی دوران پرواز گمراہ نہ ہونے کی ضمانت بھی دی تھی، اللہ کے رسول ﷺ نے جاتے ہوئے فرمایا: میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب چھوڑ کر جارہا ہوں، جب تک اسے مضبوطی سے تھامے رہو گے گمراہ نہیں ہوگے۔ خیر امت نے اللہ کی کتاب کو جس مضبوطی کے ساتھ تھاما، اس کی مثال کسی اور امت میں نہیں ملتی۔
بی بی عائشہ سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے، ام المومنین نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کے اخلاق قرآن جیسے تھے، اس جواب میں زبردست پیغام ہے، کہ اگر تمہیں محض اپنی معلومات میں اضافہ کرنا ہے، تو الگ بات ہے، لیکن اگر واقعی اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق اپنانے کا شوق رکھتے ہو، اور اگر اللہ کے رسولﷺ کی سنت پر عمل کرنے کا سچا جذبہ رکھتے ہو، تو قرآن مجید کی طرف رجوع کرو۔
خیر امت میں شامل ہونے کے دروازے ابھی بھی ہر مسلمان کے سامنے کھلے ہیں، شرط یہ ہے کہ زندگی کی عمارت کی تعمیر قرآن مجید کی رہنمائی میں کی جائے، نقشہ بھی وہیں سے حاصل کیا جائے، اور نقش ونگار بھی وہیں سے اخذ کئے جائیں، بنیاد کے پتھر بھی وہیں سے لئے جائیں، اورعمارت بنانے کا طریقہ بھی وہیں سے دریافت کیا جائے۔

اپنے دل سے کہیں، محبت کرے

اپنے دل سے کہیں، محبت کرے
محی الدین غازی
چمن کے حسن اور رنگینی کو بڑھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خوب صورت اور خوشبودار پھولوں کے پودے لگائے جائیں اور پھر ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جائے۔ انسانوں کی اس دنیا کو حسین اور دل کش بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے انسانوں کے لئے کوئی خوب صورت سی مثال قائم کردی جائے کہ انسانوں کو انسانوں سے آباد یہ دنیا بہت اچھی نظر آنے لگے، یہ طریقہ حسین بھی ہے اور آسان بھی ہے، اسے ہر کوئی اختیار کرسکتا ہے، نہ اس کے لئے طاقت اور اقتدار درکار ہے اور نہ ہی دولت اور وسائل کی ضرورت ہے، بس سینے میں ایک زندہ، جیتا جاگتا اور حسن وجمال کو چاہنے والا دل ہونا چاہئے۔ میں نے بہت قریب سے کچھ لوگوں کو محبت کے پودے لگاتے ہوئے اور بڑے چاؤ اور لگن سے انہیں سیراب کرتے ہوئے پایا، اس وقت ان کا تذکرہ کرنے کے لئے طبیعت بے تاب ہے، کہ پھر موقعہ ملے، ملے نہ ملے۔
میرے نانا ابا اور نانی امی
امی کا انتقال ہوا تو ہم گیارہ بھائی بہن تھے، میں سب سے بڑا تھا، مگر کچھ زیدہ بڑا نہیں تھا، اور میرے چھوٹے بھائی بہن چھوٹے اور کچھ تو بہت چھوٹے تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ چھوٹے بھائی بہنوں کی مناسب پرورش اور صحیح دیکھ بھال کے لئے مجھے شادی کرلینی چاہئے، اور گھر میں کسی صورت سوتیلی ماں کو نہیں آنا چاہئے۔ لیکن میرے نانا ابا اس رائے کے حق میں نہیں تھے، انہوں نے امی کے انتقال کے بعد ہی سے ابا جان کے لئے مناسب رشتہ تلاش کرنا شروع کردیا، اور پھر چند ماہ کے اندر ابا جان کا نکاح اپنے ایک دوست کی بیٹی سے کرادیا، نانا ابا اور نانی امی زندگی بھر ہماری دوسری امی کو اپنی بیٹی کی طرح مانتے رہے، وہ اکثر ہم بھائی بہنوں کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ اپنی دوسری امی کے ساتھ بہت اچھی طرح رہا کرو جس طرح تم سب اپنی پہلی امی کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ نانا ابا اور نانی امی کے اس نیک جذبے اور اس حسین رویے کی برکتیں ہم سب اپنے گھر میں برسہا برس سے محسوس کررہے ہیں۔
میری خالہ اپیا
خالہ اپیا کے حصے میں تین طرح کے بچے آئے، کچھ وہ جو ان کے پہلے شوہر سے تھے، کچھ وہ جو پہلے شوہر سے جدا ہونے کے بعد ان کے دوسرے شوہر سے ہوئے، اور کچھ وہ جو ان کے دوسرے شوہر کی پہلی بیوی سے تھے، خالہ اپیا نے اپنے بہت کشادہ اور آرام دہ دل میں ان سب کو بسالیا۔ تین طرح کے بچوں کی وہ حقیقی ماں بن گئیں۔ جن بچوں کی وہ حقیقی ماں نہیں ہیں، اگر ان سے ساری دنیا مل کر کہے کہ یہ تمہاری حقیقی ماں نہیں ہیں تو شاید وہ ماننے سے انکار کردیں۔
میرے بچوں کے نانا اور نانی
جب میں نے اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کی، تو بہت سے لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا، لیکن مجھے سب سے زیادہ فکر بچوں کے نانا اور نانی کی تھی مبادا میں ان کی محبتوں سے محروم نہ ہوجاؤں۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں نے دوسرا نکاح کرلیا ہے، تو مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ان کا رد عمل کس طرح کا ہوگا، لیکن جو رد عمل سامنے آیا اس نے مجھے حیران کردیا، میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت کو پہلی مرتبہ دیکھ کر ذرا بھی حیران نہیں ہوا تھا لیکن اس دن ان دونوں کے قد کی بلندی کو دیکھ کر حیرت واستعجاب کے سمندر میں ڈوب گیا، انہوں نے پوری بات سن لینے کے بعد تسلی بخش لہجے میں کہا کہ اب تک ہماری دو بیٹیاں تھیں مگر آج سے ہم سمجھیں گے کہ ہماری تین بیٹیاں ہوگئی ہیں۔ میرے دل کو سکون ملا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس کے بعد انہوں نے اس نئے رشتے کو بڑی ہی خوب صورتی سے نباہا، انہوں نے اپنی بیٹی کی سوکن کو اپنی بیٹی بنایا اور اس طرح بنایا کہ وہ سگی بیٹی کی طرح عزیز لگنے لگی۔ میری پہلی بیوی کے بچوں کے لئے وہ مشفق نانا اور نانی تھے ہی میری دوسری بیوی کا بچہ بھی ان کا نواسا بلکہ چہیتا نواسا بن گیا، ان کا گھر میری پہلی بیوی کا میکہ تو تھا ہی دوسری بیوی کے لئے بھی وہ دوسرا میکہ اور ماں کے گھر کی طرح محبت کا گہوارہ بن گیا۔ میں جب بھی اپنی دوسری بیگم کے ساتھ اپنی پہلی سسرال جاتا ہوں بچوں کی نانی بڑے شوق اور چاؤ سے ہمارے لئے لذیذ کھانوں کا پرتکلف دسترخوان چن دیتی ہیں۔
ایک دن بہت جذباتی ہو کر دوسری بیگم نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بچوں کی نانی سے کہا، امی آپ کھانا کچن میں نہیں بناتی ہیں، وہ حیرت سے دیکھنے لگیں کہ اس جملے کا کیا مطلب ہے، اس نے اگلا جملہ کہا امی آپ کھانا دل میں بناتی ہیں، آپ جو بھی بناتی ہیں سب بہت مزے دار اور لذیذ ہوتا ہے۔ اتنا مزے دار اور لذیذ کھانا دل کے اندر ہی بن سکتا ہے۔
اپنی بیٹی کی سوکن کو بھی اپنی بیٹی بنالینا، اور اس پر اور اس کے بچے پر بے پناہ شفقت اور پیار لٹاتے رہنا بہت سوں کی نظر میں مشکل اور تعجب خیز ہوگا، لیکن میرے بچوں کے نانا اور نانی کے لئے یہ کبھی مشکل نہیں رہا، بنا کسی مشقت اور بنا کسی بناوٹ کے بالکل سادہ اور فطری انداز میں وہ ہم سب پر بے حساب محبت لٹاتے ہیں۔ انہوں نے میرے فیصلے کو محض برداشت اور گوارا نہیں کیا بلکہ اسے بھرپور عزت وتکریم سے نوازا۔
ایک مجلس میں جب میں نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر کہا کہ جن رشتوں کو دنیا سوتیلے رشتے کہتی ہے، انہیں بھی محبت والفت کا خوب صورت رشتہ بنایا جاسکتا ہے تو کئی لوگوں نے مجھ سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ خیالی بات ہے، حقیقت کی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ لیکن میں نے اپنے قریبی ماحول میں جتنا دیکھا ہے اور جس قدر سوچا ہے، کسی بھی رشتے کو محبت کا رشتہ بنالینا بہت آسان ہے، صرف دل کے اندر ایک ہلکی سی تبدیلی کرنی ہوتی ہے، اپنی نگاہ اور اپنے رویے کے تاروں کو نفرت ترسیل کرنے والی لائن سے الگ کر کے محبت ترسیل کرنے والی لائن سے جوڑنا ہوتا ہے، اس کے بعد بڑی آسانی کے ساتھ آپ جس سے چاہیں اور جتنی چاہیں محبت کرسکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انسان کا نفس بہت سے آسان کاموں کو بہت مشکل بلکہ ناممکن بناکر پیش کرتا ہے۔
دل سے محبت کے چشمے جاری ہوتے ہیں تو نیکی اور بھلائی کے بہت سے پودے سیراب ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں، ایسے ہی پودوں سے زمین کا بناؤ سنگھار ہوتا ہے۔